کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے ایک خصوصی سیشن میں سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے کنوینیر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کی موجودہ حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، جہاں 17 سالہ حکومت کے باوجود پیپلز پارٹی عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پانی جیسے بنیادی مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے تھا۔ کراچی سے باہر نکلیں گے تو نظر آئے گا کہ شہر کس قدر مسائل کا شکار ہے۔
آئی بی اے میں طلبہ سے سوال و جواب کے سیشن کے دوران شاہد خاقان نے کہا کہ سندھ میں نئی نہریں بننے کا معاملہ تشویشناک ہے اور وفاقی حکومت اس کے اثرات واضح کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فوری طور پر سی سی آئی اجلاس بلایا جائے تاکہ شفافیت پیدا ہو اور صوبوں میں بداعتمادی نہ بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مرکز میں بھی شامل ہے، مگر عوامی مسائل سے لاتعلقی اختیار کی جا رہی ہے۔
سابق وزیراعظم نے ملک میں بدامنی، مہنگائی، اور کسانوں کی حالت زار پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ گندم کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے لیکن کسانوں سے کوئی خریداری نہیں ہو رہی، جس سے کسانوں کی حالت مزید خراب ہو رہی ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے نیب کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 25 سال ہو گئے لیکن کرپشن کے خاتمے کے کوئی مؤثر نتائج سامنے نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی جمہوری روایات اپنانے میں ناکام ہیں، سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک فورم پر آ کر عوامی مسائل پر کھلے مکالمے کرنے چاہئیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بجلی سب سے زیادہ رات کے وقت استعمال ہوتی ہے، جب تک کراچی ترقی نہیں کرے گا، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اگر سنجیدہ اصلاحات کریں تو ملک کو بہتری کی جانب لے جایا جا سکتا ہے۔
شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر الیکشن میں دھاندلی ہوئی، کسی کو ہرایا گیا، کسی کو جتوایا گیا، ہم نے نتائج نہ مان کر ملک کو نقصان پہنچایا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ وزراء کو چاہیے کہ وہ خود مسائل کا حل نکالیں، ہر مسئلہ وزیراعظم کے پاس لے جانا درست حکمرانی نہیں۔
