تازہ ترین

کراچی جیسے سانحے کا خدشہ، ملتان کے شاپنگ مالز میں فائر سیفٹی ناکام، شہری خوفزدہ

ملتان(نیوز رپورٹر)کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں ہوئے المناک واقعے کے بعد سےملتان سمیت ملک بھر میں تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کے فقدان نےتاجر برادری اور شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں پلازے میں لگنے والی آگ صاف نشاندہی کرتی ہےکہ عمارتوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی اصولوں کا نفاذ ٹھیک سے نہیں ہو ا جس کا نتیجہ کئی انسانوں کی جانیں جانے سےسامنے آچکا۔اب ملتان شہر میں بھی اسی نوعیت کا خطرہ منظر عام پر آ رہا ہے جہاں سینکڑوں شاپنگ مالز، پلازے اور کمرشل مراکز میں فائر سیفٹی قوانین کے نفاذ میں سنگین کوتاہیاں پائی جارہی ہیں۔یہ صورتحال ملتان کے شہریوں اور تاجروں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ یہاں بھی بڑی عمارتوں، پلازوں اور شاپنگ سنٹرزمیں اسی قسم کی بے قاعدگیاں اور کمزور نگرانی پائی جا رہی ہےخصوصی طور پر جب کسی مستند سرکاری ادارے کی جانب سے مستقل انسپکشن نہ ہو۔ شہر میں موجود پلازوں ،شاپنگ مالز اور مارکیٹس میں ہنگامی اخراج، فائر الارم سسٹمز، فائر ہوز اور دیگر حفاظتی اقدامات کا فقدان ہے ۔ ملتان کے رہائشی اور کمرشل منصوبوں کے کی منظوری کے وقت ہنگامی سیڑھیاں، فائر ایکسٹینگشر اور محفوظ راستوں کی تفصیلات لکھی تو جاتی ہے لیکن حقیقت میں ان ضوابط پر عملدرآمد بہت کم ہوتا ہے۔ بہت سے پلازے ،شاپنگ مالز اور عمارتیں قانونی ضروریات کو نظرانداز کر کے بغیر مکمل فائر سیفٹی سسٹم کے کاروبار کر رہی ہیں۔ فائر سیفٹی کی عدم موجودگی بڑے حادثات کو دعوت دیتی ہے۔ کراچی کے معروف شاپنگ مال گل پلازہ اور دیگر مراکز میں ہوئے حادثات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی صورت میں ایک چھوٹا سا شارٹ سرکٹ، گیس لیکیج یا ناقص الیکٹریکل وائرنگ بڑے پیمانے پر نقصان اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ملتان میں بھی ایسے کئی شاپنگ مالز،پلازے اور مارکیٹس ،عمارتوں کے مالک اور انتظامیہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کو ترجیح نہیں دیتے یا پھر فضول اخراجات سمجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ملتان میں بھی سنگین خطرات موجود ہیں اور ایک بڑے سانحے کے امکانات کو روشن کر رہے ہیں ۔کسی بڑے سانحے سے بچنے کے لیے تمام شاپنگ مالز، پلازے اور کمرشل مراکز کا فوری فائر سیفٹی انسپکشن کی جائے۔غیر محفوظ عمارتوں کو طور سیل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سرکاری ادارے مستقل اور شفاف نگرانی کا نظام نافذ کریں۔عمارت مالکان، تاجر اور شہری فائر ایمرجنسی ٹریننگ اور آگ کے خلاف احتیاطی اقدامات کی ٹریننگ ایجوکیٹ کیا ۔قوانین کو صرف کاغذوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی طور پر نافذ کیا جائے تاکہ کسی دردناک سانحے سے قبل تاجروں اور شہریوں کی زندگیوں اور کاروبار کو محفوظ بنایا جا سکے۔اس ضمن میں ریسکیوملتان کے ایمرجنسی آفیسر انجینئر محمد بلال نےروزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے دائرہ کار میں جو مارکیٹس ،شاپنگ مالز اور پلازے ہیں ان کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور فائر سیفٹی کے انتظامات چیک کرنے کے لیے انسپکشن کی جا رہی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں