ملتان ( سیدقلب حسن سے)کراچی،لودھراں اورلاہورکے بعدملتان میں بھی سیوریج کے کھلے مین ہولزکسی بھی بڑے سانحےکاسبب بننے کیلئے تیار ہیں۔ ملتان کے قدیمی اور گنجان آباد علاقے ٹبی شیر خان گھنٹہ گھر مارکیٹ کے عقب میں واقع آبادی شدید انتظامی غفلت کا شکار ہو چکی ہے، جہاں جگہ جگہ کھلے مین ہول اور گٹر شہریوں کیلئے مستقل خطرہ بن گئے ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق یہ علاقہ عملی طور پر نوگو ایریا بن چکا ہے، جہاں بچوں، خواتین اور بزرگوں کا گزرنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہے۔ علاقے میں ایک ہی گلی میں کم از کم 10 سے 12 بڑے گٹر اور مین ہول بغیر ڈھکن کے کھلے پڑے ہیں، جن میں کئی گٹر سڑک کے عین درمیان جبکہ کئی رہائشی گلیوں اور بازار کے داخلی راستوں پر موجود ہیں۔ ان گٹروں کی گہرائی اور چوڑائی اس قدر زیادہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان میں گر جائے تو جان بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک دن یا چند ہفتوں کا نہیں بلکہ کئی ماہ سے موجود ہے، تاہم متعلقہ محکمے بالخصوص واسا، میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ نے تاحال کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا۔ شہریوں کے مطابق بارہا شکایات درج کرانے کے باوجود نہ تو گٹروں کو بند کیا گیا اور نہ ہی عارضی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ذرائع کے مطابق ٹبی شیر خان گرلز سکول کے باہر بھی کھلے گٹر موجود ہیں، جہاں روزانہ طالبات کی بڑی تعداد کا آنا جانا ہوتا ہے۔ والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی طالبہ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ادھر حالیہ دنوں میں لاہور اور کراچی میں کھلے گٹروں میں گر کر ہلاکتوں کے واقعات سامنے آنے کے بعد شہریوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ لاہور کے عین وسطی علاقے میں پیش آنے والے حالیہ واقعے میں ایک خاتون اپنے معصوم بچے سمیت کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھی، جس نے ملک بھر میں شہری انفراسٹرکچر کی بدحالی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بڑے شہروں کے مرکزی علاقوں میں یہ صورتحال ہے تو پرانے اور نظر انداز کیے گئے علاقوں کا حال بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ملتان کے شہری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ ٹبی شیر خان جیسے علاقوں میں کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ مقامی دکانداروں کے مطابق رات کے وقت اندھیرے میں ان گٹروں کا نظر آنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، جبکہ بارش کے دوران صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے، کیونکہ پانی کھڑے ہونے سے گٹر مکمل طور پر چھپ جاتے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کھلے گٹر بازاروں اور رہائشی علاقوں کے بیچ موجود ہیں، مگر اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی عملی قدم سامنے نہیں آیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بڑے حادثے کے بعد ہی کارروائی کی گئی تو یہ انتظامی نظام پر ایک اور بدنما داغ ہوگا۔شہری تنظیموں اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹبی شیر خان سمیت شہر بھر میں کھلے تمام گٹروں اور مین ہولز کو فوری طور پر بند کیا جائے، ذمہ دار افسران کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور مستقل بنیادوں پر نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔رابطہ کرنے پر واسا اور میونسپل کارپوریشن کے متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ شہر میں سیوریج کے بعض مقامات پر مرمت کا کام جاری ہے تاہم شہریوں کی جانب سے جن مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کا جائزہ لیا جائے گا اور جلد اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ یقین دہانیاں ماضی میں بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر عملی طور پر کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے سانحے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں۔







