کامسیٹس یونیورسٹی، میرٹ، شفافیت پامال، ایکٹنگ ریکٹر نے ادارہ کو ذاتی جاگیر بنا لیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیمی نظم و نسق اس وقت شدید بحران کا شکار ہے جہاں سابقہ ایکٹنگ ریکٹر کی جانب سے اختیارات کے مسلسل اور دانستہ غلط استعمال نے ریاستی اداروں کی رٹ کو چیلنج کر دیا ہے۔ صدرِ پاکستان بطور چانسلر، گورنر پنجاب بطور چانسلرِ جامعات، ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی واضح اور تحریری ہدایات کے باوجود ایکٹنگ ریکٹر نے عبوری عہدے کی حدود پامال کرتے ہوئے تعیناتیوں اور پروموشنز کا غیر قانونی سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا ۔ حکومتِ پاکستان، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے مراسلہ نمبر No.6(6-Comp)/2019/CUI/ASA(IL-III مورخہ 18 مارچ 2025 نے اس تمام غیر قانونی عمل کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مراسلے میں صدرِ پاکستان کے سیکرٹریٹ کی 31 جنوری 2025 کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ایکٹنگ ریکٹر عبوری مدت کے دوران تدریسی و غیر تدریسی عملے کی کسی بھی قسم کی تقرری یا ترقی کے مجاز نہیں۔ اس کے باوجود کامسیٹس یونیورسٹی میں 39واں سلیکشن بورڈ بلایا گیا، سفارشات مرتب کی گئیں اور ان پر دستخط کر کے انہیں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی جو صریحاً قانون، ضابطے اور اعلیٰ احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مراسلے میں دو ٹوک انداز میں اعلان کیا گیا ہے کہ 39ویں سلیکشن بورڈ کی تمام سفارشات صدرِ پاکستان بطور چانسلر کی ہدایات کے مطابق کالعدم اور غیر مؤثر ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ سلیکشن بورڈ مستقل ریکٹر کی تعیناتی کے بعد از سرِ نو بلایا جائے گا، تاکہ قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف اور قانونی فیصلے کیے جا سکیں۔ یہ امر اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ایکٹنگ ریکٹر نے نہ صرف اپنے اختیارات سے تجاوز کیا بلکہ یونیورسٹی کو جان بوجھ کر انتظامی اور قانونی الجھن میں مبتلا کیا۔ تعلیمی و انتظامی حلقوں میں شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایک عبوری عہدے دار نے خود کو مستقل ریکٹر سمجھتے ہوئے ادارے کے مستقبل سے کھلواڑ کیا۔ ماہرین کے مطابق ایکٹنگ عہدہ اختیار نہیں بلکہ امانت ہوتا ہے، مگر کامسیٹس یونیورسٹی میں اس امانت کو ذاتی صوابدید اور من مانی فیصلوں کی نذر کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعیناتیوں اور پروموشنز کے ذریعے مخصوص افراد کو نوازنے کی کوشش کی گئی، جس سے میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ سوال اب شدت اختیار کر چکا ہے کہ جب وفاقی وزارت، صدرِ پاکستان کے سیکرٹریٹ اور دیگر متعلقہ ادارے واضح ہدایات جاری کر چکے تھے تو ایکٹنگ ریکٹر نے سلیکشن بورڈ بلانے کی جسارت کس بنیاد پر کی۔ کیا یہ سب کچھ لاعلمی تھی یا دانستہ قانون شکنی؟ مزید یہ کہ اس غیر قانونی عمل سے متاثر ہونے والے امیدواروں کے وقت، وسائل اور وقار کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہوگا اور کیا اس کا کوئی ازالہ ممکن ہے؟ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی نافرمانی محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتی ہے، جس پر تادیبی اور قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ اگر اس معاملے کو محض مراسلوں تک محدود رکھا گیا تو یہ مستقبل میں دیگر اداروں کے لیے خطرناک مثال بن جائے گا جہاں عبوری عہدے دار خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگیں گے۔ کامسیٹس یونیورسٹی کا یہ بحران درحقیقت پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی مجموعی زبوں حالی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ادارہ جاتی کمزوری اور احتساب کی کمی قانون شکنی کو معمول بنا چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت، چانسلر آفس اور متعلقہ نگرانی کرنے والے ادارے اس سنگین خلاف ورزی پر خاموش تماشائی بنتے ہیں یا عملی اور مثالی کارروائی کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ریاستی ہدایات محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد لازم ہے۔ یہ معاملہ اب صرف کامسیٹس یونیورسٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ قانون کی بالادستی، ریاستی رٹ اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی مستقبل کا کڑا امتحان بن چکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں