ملتان (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزارت برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر انتظام کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے مختلف کیمپسز میں اساتذہ کرام کی جانب سے طلبا و طالبات کی جعلی حاضریاں لگانے، اپنے پسندیدہ یا سفارشی طلبا و طالبات کی حاضریاں آن لائن پورٹل میں جعلی درج کرنے، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے مختلف کیمپسز میں انجینئرنگ سے تعلق رکھنے والے ڈیپارٹمنٹس کی مختلف لیبارٹریوں میں کروڑوں کا سامان بے کار کرنے اور امتحانات میں سیکریسی کو بائی پاس کرتے ہوئے جعلی نمبر دیئے جانے کے حوالے سے متعدد حساس نوعیت کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کو ایسی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں جس میں آن لائن پورٹل پر جعلی حاضری جمع کرانے، لیباٹریز میں آلات کی غیر فعالی و مرمت اور دیکھ بھال و امتحان میں ٹیمپرنگ کیسز کی بابت خطوط لکھے گئے مگر طلبا و طالبات کو کامسیٹس یونیورسٹی کے آن لائن سسٹم میں موجود خامیوں اور ڈیپارٹمنٹس میں موجود خراب آلات اور سامان کی وجہ سے تعلیمی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ زیادہ تر اساتذہ طلبا و طالبات کی حاضریاں ڈیڈ لائن کے قریب آتے ہی درج کرنا شروع کر دیتے ہیں یا پھر اکثر اوقات درج نہ کرنے کی صورت میں درخواست کر کے پورٹل کھلوا کر درج کر لیتے ہیں۔ کچھ اساتذہ کی جانب سے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ تقریباً تمام طلباء و طالبات کی حاضریاں پوری کر دیتے ہیں۔ ایک طالبعلم نے یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی طالبعلم شادی یا فوتگی پر ہو تو حیران کن طور پر اس کی حاضری بھی آن لائن پورٹل میں موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح سیشنل مارکس بھی اساتذہ کی جانب سے فرضی درج کر دیئےجاتے ہیں جو کہ کامسیٹس یونیورسٹی کے اندرونی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حتی کہ اکثر طلبا و طالبات کے مارکس کویز یا اسائنمنٹ نہ جمع کروانے کے باوجود درج ہوتے ہیں جو کہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد جو کہ اعلیٰ اور انٹرنیشنل معیار تعلیم کا دعویٰ کرتی ہے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایک اور انکشاف کے مطابق تمام کیمپسز میں انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹس کی لیبارٹریوں میں کروڑوں کا سامان چھوٹی چھوٹی خرابیوں کے باعث فارغ پڑا ہوا ہے جس سے طلبا و طالبات کا تعلیمی کیریئر بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔






