کامرس کالجز یونیورسٹیز کے سپرد، ہائر ایجوکیشن کا غریب دشمن فیصلہ، طلبہ، والدین سراپا احتجاج

ملتان( سٹاف رپورٹر ) قیام پاکستان کے 78 سال گزرنے کے باوجود ہمارے نظام تعلیم کی سمت کا ہی تعین نہیں ہو سکا اور آئے روز نت نئے تجربات نے نظام تعلیم کو الجھا کر رکھ دیا ہے اور دوسری طرف ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا بھارت پہلے تین سالوں ہی میں اپنے تعلیمی قبلے کا تعین کر چکا تھا اور آج دنیا بھر میں بھارت کے تعلیم یافتہ افراد اہم ترین شعبوں میں نمایاں پوزیشنز پر براجمان ہیں۔ اب ایک اور متنازعہ فیصلہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے لاگو کر دیا ہے جس کے تحت کامرس کالجز کی یونیورسٹیوں کو حوالگی کر دی گئی ہے۔ اس غیر ذمہ دارانہ فیصلے نے غریب طلبہ اور اساتذہ شدید مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) پنجاب کی جانب سے صوبے بھر کے گورنمنٹ کامرس کالجز کو پہلے سے شدید مالی اور انتظامی مسائل کا شکار پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے حوالے کرنے کے فیصلے نے ہزاروں غریب طلبہ و طالبات اور اساتذہ میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس فیصلے کو تعلیمی ماہرین اور والدین ایک حقائق کے برعکس ایک غیر دانشمندانہ، عجلت میں کیا گیا اور سماجی ناانصافی پر مبنی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ 18 دسمبر 2025ء کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشنNO. SO(Univ.) Misc-4/2025کے تحت ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کی بڑی سرکاری یونیورسٹیوں، جن میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، پنجاب یونیورسٹی لاہور، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور و فیصل آباد، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر جامعات شامل ہیں، سے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود گورنمنٹ کامرس کالجز کو ٹیک اوور کرنے کے لیے فوری فزیبلٹی رپورٹس جمع کروائیں۔ اس فیصلے کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ کامرس کالجز میں زیرِ تعلیم غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ و طالبات جو اب تک سالانہ 7 سے 8 ہزار روپے فیس میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، اب یونیورسٹی سسٹم میں جانے کی صورت میں 40 سے 50 ہزار روپے فی سمسٹر (یعنی چھ ماہ) فیس ادا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ اضافہ محض فیس تک محدود نہیں بلکہ داخلہ فیس، رجسٹریشن، امتحانی چارجز اور دیگر یونیورسٹی اخراجات الگ ہوں گے، جو ہزاروں طلبہ کے لیے تعلیم ترک کرنے کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ وہ والدین جو اپنے بچوں کو کم فیس کے باعث کامرس کالجز میں بھیجتے ہیں، کیا وہ اچانک یونیورسٹی فیس ادا کرنے کے قابل ہیں؟ یا پھر یہ فیصلہ بالواسطہ طور پر غریب طبقے کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے؟ یہ فیصلہ صرف طلبہ تک محدود نہیں بلکہ کامرس کالجز کے اساتذہ بھی شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ابھی تک واضح نہیں کہ اساتذہ کالج کیڈر میں رہیں گے یا یونیورسٹی کیڈر میں شامل ہوں گے؟ ان کی سنیارٹی کس بنیاد پر طے ہو گی؟ ان پر کالج سروس رولز لاگو ہوں گے یا یونیورسٹی سروس سٹیٹیوٹس؟ پروموشن، ٹرانسفر اور پنشن کے معاملات کیسے طے ہوں گے؟ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ان بنیادی سوالات کا کوئی جواب دئیے بغیر محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے یونیورسٹیوں سے تفصیلات طلب کر لی ہیں، جو اساتذہ کے ساتھ انتظامی ناانصافی کے مترادف ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یونیورسٹیوں کو 22 دسمبر 2025ء تک فزیبلٹی رپورٹس جمع کروانے کی ہدایت دی گئی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ پورا عمل انتہائی عجلت، بغیر مشاورت اور زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے شروع کیا گیا ہے۔نہ طلبہ نمائندوں سے مشاورت کی گئی، نہ اساتذہ تنظیموں سے، اور نہ ہی والدین یا تعلیمی ماہرین کو اعتماد میں لیا گیا۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تعلیمی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ کرے گا۔ غریب طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرے گا۔ کالجز اور یونیورسٹیوں کے درمیان انتظامی ٹکراؤ پیدا کرے گا۔ اساتذہ کے حقوق، سروس اسٹرکچر اور سنیارٹی کو متنازع بنائے گا۔ صوبے بھر میں قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کو جنم دے گا۔ چنانچہ طلبہ، اساتذہ اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ کامرس کالجز کو یونیورسٹیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ فوری طور پر روکا جائے۔ فیس اسٹرکچر، اساتذہ کے سروس رولز اور طلبہ کے مستقبل پر کھلی مشاورت کی جائے۔ غریب طلبہ کے لیے تعلیم کو مہنگا کرنے کے بجائے مزید قابلِ رسائی بنایا جائے۔ بصورت دیگر یہ فیصلہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی تاریخ میں غریب دشمن، غیر منصفانہ اور تباہ کن پالیسی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں