ملتان (سہیل چوہدری سے) چوہدری پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان جو کہ ایک سرکاری ادارہ ہے اور جس میں ہر طرح کے آپریشن فری ہیں اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے اس پورے ہسپتال کے انتظام و انصرام کو خود ہی ٹھیکے پر لے رکھا ہے اور اپنے ملازم راجہ نگار نامی ٹاؤٹ کو ڈیل ماسٹر بنا کر بٹھا دیا ہے جس کے سامنے سینئر ڈاکٹرز اور سرجن حضرات کی بھی طبی سفارشات نہیں مانی جاتیں۔ ٹھیکے پر لیے جانے کے بعد راجہ نگار کی طرف سے جو ریٹ لسٹ جاری ہوئی ہے اس کے مطابق اگر کسی مریض نے ارجنٹ طور پر اپنے دل کا وال تبدیل کروانا ہے تو اسے پانچ لاکھ روپے کا انتظام کرنا ہوگا جس کی کوئی رسید جاری نہیں کی جاتی اور اگر کسی نے ارجنٹ بائی پاس کروانا ہے تو اسے دو لاکھ روپیہ راجہ نگار کو پیش کرنا ہوگا اور یہ سکہ رائج الوقت گزشتہ کئی ماہ سے دھڑلے سے پنجاب کے سب سے بڑے دل کے ہسپتال میں جاری ہے۔ اسی التوا کی وجہ سے 16 نومبر کو ایک مریض کا انتقال بھی ہو چکا ہے جس کے بارے میں سرجن ڈاکٹر زبیر نے لکھ کر دیا کہ اس کا فوری اپریشن کیا جائے کیونکہ اس کی حالت ٹھیک نہیں۔ محمد سلیم نامی اس مریض جس کی عمر 57 سال تھی اور وہ بکھر کے علاقے دریا خان کا رہنے والا تھا اسے شدید نوعیت کا ہارٹ اٹیک ہوا اسے چار نومبر کوچوہدری پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ اف کارڈیالوجی لایا گیا جہاں چار نومبر 2025 کو 10 بج کر 53 منٹ پر اسے ٹوکن نمبر ایچ ڈی 217 جاری کیا گیا جس کے بعد اسے چیک کر کے اس کی پرچی پر ہارٹ سرجن ڈاکٹر زبیر نے لکھا کہ اس مریض کا ہنگامی بنیادوں پر اپریشن کیا جائے مگر جب معاملہ راجہ نگار تک پہنچا تو اس نے کہا کہ ہمارے پاس اگلے پانچ مہینے کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے اگر اپ دو لاکھ روپے کا انتظام کر سکتے ہیں تو کسی مریض کی جگہ اپ کا نام ڈالا جا سکتا ہے جس پر چار نومبر سے لے کر 15 نومبر تک 11 دن محمد سلیم نے یا نامی یہ مریض سفارشیں کرواتا رہا مگر پیسوں کا انتظام نہ کر سکا اور بالاخر 16 نومبر کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا جنوبی پنجاب کے غریب مریضوں کی واحد امید، چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان میں مبینہ طور پر کرپشن اور مریضوں کی جان سے کھیل کا سنگین الزام سامنے آیا ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مجتبیٰ صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے بائی پاس سرجری کی تاریخیں دینے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور غریب مریضوں کو پیسوں کی عدم ادائیگی پر دو-دو سال کا ٹائم دیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ایک شدید ہارٹ اٹیک کا شکار مریض محمد سلیم 16 نومبر کو انتقال کر گیا۔ذرائع کے مطابق، انسٹی ٹیوٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مجتبیٰ صدیقی نے بائی پاس سرجری کی قیمت دو لاکھ روپے اور وال تبدیل کرنے کی پانچ لاکھ روپے مقرر کی ہوئی ہے۔ ملازم راجہ نگار کے ذریعے مبینہ طور پر پیسوں کا “مک مکا” کیا جاتا ہے۔ جو مریض یہ رقم ادا نہ کر سکیں، انہیں سرجری کی بجائے طویل انتظار کی لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں بھکر کے رہائشی 55 سالہ محمد سلیم کو شدید ہارٹ اٹیک ہوا۔ انہیں فوری طور پر چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹر زبیر احمد نے اپنی طبی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا کہ “محمد سلیم کو شدید ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور ان کا فوری بائی پاس آپریشن ضروری ہےتاہم ڈاکٹر مجتبیٰ صدیقی کے مبینہ دست راست راجہ نگار نے فوری سرجری کے لیے محمد سلیم کے لواحقین سے دو لاکھ روپے طلب کر لیے۔ غریب خاندان اس رقم کا بندوبست نہ کر سکا جس کی وجہ سے سرجری میں تاخیر ہوئی اور 16 نومبر کو محمد سلیم انتقال کر گئے۔ محمد سلیم کی بیوی نے اپنے شوہر کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ہمارا خاندان مزدوری کرتا ہے، دو لاکھ روپے کہاں سے لاتے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ پیسے ہوں تو فوری آپریشن ورنہ انتظار کرو۔ اب میرا شوہر واپس نہیں آئے گا۔یہ واقعہ انسٹی ٹیوٹ کی پالیسی میں حالیہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے ماضی میں جن مریضوں کو شدید ہارٹ اٹیک ہوتا تھا ان کا فوری بائی پاس کیا جاتا تھا مگر اب مبینہ طور پر “پیسہ کمانے” کے لیے غریب مریضوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ایک سابق ملازم نے بتایا، “ڈاکٹر مجتبیٰ صدیقی نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ راجہ نگار کے ذریعے ہر سرجری پر کمیشن کا بندوبست ہوتا ہے۔ غریب مریض مر جاتے ہیں، امیر لوگ فوری علاج کروا لیتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان جو جنوبی پنجاب کے لاکھوں دل کے مریضوں کی آخری امید ہے، اس قسم کی شکایات کا مرکز بن چکا ہے۔ ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر انتظامی نااہلی اور مریض دشمنی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں مگر حکام کی طرف سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔ محمد سلیم کے خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں اور قصور واروں کو سزا دی جائے۔یہ واقعہ صحت سہولیات میں کرپشن اور غریب مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔







