ملتان( کورٹ رپورٹر) ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس سلطان تنویر احمد نے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوٹ ادو کو عدالت طلب کیا تھا مگر انہوں نے مقامی تحصیلدار اور پٹواری کو بھجوادیاجس پر فاضل عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور دو گھنٹے کے نوٹس پر سی پی او ملتان ،ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو کو بھی طلب کرلیا۔فاضل عدالت نے کورٹ روم میں موجود حکیم خان کو حراست میں لینے کا حکم دیا۔ طلب کردہ افسران کے بیانات ریکارڈ کئے ۔بعد ازاں فاضل عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ۔افسران نے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل کنور ساجد علی کے توسط سے فاضل عدالت کو آگاہ کیا کہ حکیم خان نے پٹیشنر رائے منصب علی خاں سے یہ رقبہ خریدا تھا ۔اس نے ناجائز قبضہ نہیں کیا ہے جب ان سے استفسار کیا ہے کہ انہوں نے 2020 سے اب تک عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے ۔اس علاقےمیں ان کی تعیناتی نئی ہے کیونکہ کوٹ ادو کو حال ہی میں ضلع کا درجہ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکیم خان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں اور ان پر قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے ۔ریاست کے سامنے کوئی شخص اس قدر طاقتور نہیں ہوسکتا کہ اس کے خلاف انتظامیہ ایکشن نہ لے سکے۔ وہ گزشتہ روز رائے منصب علی خان کی حکیم خان کے خلاف درخواست سماعت کر رہے تھے۔ پٹیشنر کے وکیل سید ریاض الحسن گیلانی نے فاضل عدالت کو حکیم خان کیخلاف درج مقدمات کی ایک طویل فہرست پیش کی اور اگاہ کیا کہ حکیم خان اس قدر باثر شخص ہے کہ اس نے 400 کنال سرکاری راضی پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کے خلاف اغوا برائے تاوان قتل اور ناجائز قبضوں کی 76 ایف آئی ار الگ سے درج ہیں مگر کوئی شخص اس کو ہاتھ ڈالنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ فاضل عدالت نے یہ صورتحال پر حیرانگی کا اظہار کیا۔







