ملتان (وقائع نگار) ڈی ایچ کیو ساؤتھ سٹی میں ادویات کی خریداری میں مبینہ کرپشن، ڈاکٹر غلام یاسین پر سنگین الزامات ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) ساؤتھ سٹی میں ادویات کی خریداری کے عمل میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن اور مال بٹورنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بطور ڈپٹی ہیڈ آف میڈیکل سروسز (ڈی ایچ او میڈیکل سروسز) اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈی ایچ کیو ساؤتھ سٹی کے عہدوں پر فائز ڈاکٹر غلام یاسین براہ راست اس عمل میں ملوث ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے لیے ادویات، طبی آلات اور دیگر سامان کی خریداری کے ٹینڈرز میں غیر شفاف طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ مخصوص کمپنیوں اور سپلائرز کو ترجیح دی جاتی ہے، جن سے مبینہ طور پر کمیشن اور رشوت لی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہسپتال کو کم معیار کی ادویات ملتی ہیں یا مطلوبہ مقدار میں سامان نہیں پہنچتا، جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معتبر ذریعے نے بتایا کہ “ادویات کی خریداری کے بجٹ کا بڑا حصہ کمیشن کی صورت میں باہر نکل جاتا ہے۔ سپلائرز سے زیادہ ریٹ پر بل پاس کیے جاتے ہیں اور فرق ایم ایس اور متعلقہ افسران میں تقسیم ہوتا ہے۔” اس کے علاوہ، ہسپتال میں داخل مریضوں کو بروقت ادویات مہیا نہیں کی جاتیں، جبکہ ادویات کی چوری کے واقعات بھی عام ہیں۔ذرائع کے مطابق ایم ایس ڈی ایچ کیو ساؤتھ سٹی براہ راست ادویات کی چوری اور ان کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہیں۔ آکسیجن سلنڈروں کے استعمال میں بھی گھپلا سامنے آیا ہے، جہاں مریضوں کو کم مقدار میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے یا نجی طور پر فروخت کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ عملے کو چھٹیوں کے عوض پیسے لینے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ صحت کارڈ (صحت سہولت پروگرام) کے تحت مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں بھی سنگین کوتاہیاں ہیں، اور آج تک ہسپتال کے ڈاکٹروں یا عملے کو صحت کارڈ کا شیئر نہیں ملا، جس سے پروگرام کی روح کے خلاف کام ہو رہا ہے۔متاثرہ مریضوں اور عملے نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر ان الزامات کی تحقیقات کرائے، ڈاکٹر غلام یاسین کو دونوں عہدوں سے ہٹایا جائے اور کرپشن کے ثبوتوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے۔ یہ الزامات صحت کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتے ہیں، جہاں مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔







