ڈینگی کا خطرہ پھر منڈلانے لگا، حکومتی الرٹ جاری، ملتان مچھروں کے نشانے پر

ملتان (وقائع نگار) ملتان میںڈینگی کا خطرہ پھر منڈلانے لگا۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کر دی۔ ملتان میں ڈینگی ورکرز نہ ہونے کے باعث اس باربھی بڑےپیمانے پرشہریوں کے ڈینگی کاشکار ہونے کا اندیشہ ہے۔ محکمہ صحت ملتان کی غفلت ،نااہلی اور 700 ڈینگی ورکرز کو ملازمت سے فارغ کرنے کے باعث 2025 میں ہزاروں افراد ڈینگی کا شکار ہوئے جبکہ درجنوں افراد دم توڑ گئے تھے۔ نئے ڈینگی ورکرز بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے ملتان سمیت ملک بھرمیں ڈینگی کا خطرہ پھر منڈلانے لگا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے ڈینگی کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے ،اس ضمن میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ذیلی ادارے سنٹر فار ڈیزز کنٹرول نے ڈینگی بخار کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے حوالے سے ایک ایڈوائزری جاری کردی ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے صوبائی اور وفاقی محکمہ ہائے صحت کو فوری احتیاطی اقدامات کرنے چاہئیں،ادارے کے مطابق نگرانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں ڈینگی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، 2023 ء میں 21 ہزار 16 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024ء میں یہ تعداد بڑھ کر 24 ہزار 182 ہو گئی، اسی طرح 2025 ءکے دوران لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 33 ہزار 394 تک پہنچ گئی،ہدایت نامے میں تمام صوبائی اور وفاقی محکمہ ہائے صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بہتر نگرانی، بروقت تشخیص اور متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کو ترجیح دیں اور مریضوں کے علاج کے لیے معیاری طبی طریقہ کار اپنائیں تاکہ اموات کی شرح ایک فیصد سے کم رکھی جا سکے،مزید کہا گیا ہے کہ مشتبہ مریضوں کی بروقت تشخیص، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی اور خطرناک مقامات کی بروقت شناخت نہایت ضروری ہے تاکہ فوری اقدامات کے ذریعے بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے،ہدایت نامے کے مطابق تمام سرکاری و نجی طبی مراکز کو چاہیے کہ وہ مریضوں کی فوری رپورٹنگ کو یقینی بنائیں اور ڈینگی کے معیاری تشخیصی اصولوں پر سختی سے عمل کریں،ادارے نے زور دیا ہے کہ ڈینگی بخار کی مؤثر روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے مختلف اداروں اور شعبوں کے درمیان مربوط اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں