تازہ ترین

ڈیرہ: کاغذی منصوبوں سے کروڑوں ہضم، میونسپل کارپوریشن میں کرپشن کہانی تین دہائی پرانی

ڈیرہ غازیخان (بیورورپورٹ )میونسپل کارپوریشن شعبہ انجینئر نگ میں بڑے پیمانے پر گھپلوں اور مبینہ بد عنوانیوں کا انکشاف ہواہے۔ مختلف کاموں کی آڑ میں جعلی کوٹیشن تیارکرکے افسران کی مال کماؤ مہم بدستور تیزی سے جاری ہے ۔میونسپل کارپوریشن کے شعبہ انجینئرنگ کے افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہر ماہ مختلف مدوں میں لاکھوں روپے کی جعلی کوٹیشن بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ایسے کاموں کی کوٹیشنز بھی بنائی جاتی ہیں جن کا سرے سے کوئی وجود بھی نہیں ہوتا۔ذرائع کے مطابق کارپوریشن کے انجینئر اور سب انجینئر خاص طور پر سیوریج اور واٹر سپلائی لائنوں کی مرمت اور نئے پائپ ڈالنے کے لئے لاکھوں روپے کی فیکٍ/جعلی کوٹیشنز بناکر میونسپل کارپوریشن کو ہر ماہ لگ بھگ 30 سے 40 لاکھ روپے کا ٹیکہ لگارہے ہیں۔ذرائع کے مطابق کارپوریشن افسران کی جانب سے ٹھیکیداروں کے ساتھ ڈیل کرکے انہیں کمیشن کی رقم دے دی جاتی ہے ان کے نام پر چیک بنا کر انہیں چیک دیتے وقت کمیشن کے علاوہ باقی رقم نقد وصول کرلی جاتی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے انجینئر اور سب انجینئرٹھیکیداروں سے ساز باز کرکے فیک کاموں کے لاکھوں روپے بل بھی پاس کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج یہ ادارہ ڈیفالٹ کے دہانے پر آن پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف مدوں میں جعلی کوٹیشن بنانے کا سلسلہ تویل عرصہ اور روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔جس میں خاص طور پر سیوریج،واٹر سپلائی،مشینری مرمت، سٹریٹ لائٹس لگانے اور ان کی مرمتاور واٹر فلٹریشن پلانٹ کے سامان وغیرہ کی خریداری کی مد میں زیادہ جعلی کوٹیشنز بنائی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ گزشتہ تین دہائیوں سے جاری ہے ۔پرانے جبکہ میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر و کمشنر نے سٹریٹ لائٹس نہ ہونے اور شہر اندھیرے میں ڈوبے رہنے کے بارے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ متعلقہ افسران کو کارکردگی بہتر بنانے کی وارننگ جاری کی ہے جس کے بعد کارپوریشن کے بد عنوان متعلقہ افسران نے بڑی بڑی کوٹیشن بنانا شروع کردی ہیں۔ذرائع کے مطابق سال 2023/24 میں ضلع کونسل،میونسپل کمیٹی کوٹ چھٹہ اور میونسپل کارپوریشن ڈیرہ میں مبینہ طورپر کروڑوں روپے کی جعلی ایمر جنسی کوٹیشنز تیار کرکے قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا گیا۔صرف یہی نہیں بلکہ کارپوریشن ڈیرہ کے افسران نے P O L کی مد میں بھی مذکورہ بالا محکمہ کو دس کروڑ سے زائد کا نقصان پہنچایا۔جہاں دیگر کاموں کی جعلی کوٹیشنز بنائی جاتی ہیں وہاں ڈیزل کی جعلی پرچیاں بناکر کروڑوں روپے خورد برد کیئے جارہے ہیں جس کی ایک زندہ مثال یہ ہے کہ کارپوریشن کی ملکیت موٹر سائیکل نمبری DGO 824 کے لئے 20 لیٹر ڈیزل کی پرچی بناکر پیٹرول پمپ سے نقد رقم وصول کی گئی اور ڈیزل/ پیٹرول کی پرچیوں کی آج بھی سیل لگی دکھائی دیتی ہے جبکہ دوسری طرف میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے اپنے موقف میں کہا کہ ہنگامی بنیادوں پر کام کرانے کے لئے کوٹیشن بنانا پڑتی ہیں لیکن جعلی اور فیک کوٹیشنز کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں