ڈیرہ میں سمگلنگ نیٹ ورک، بواٹا بارڈر سے راکھی گاج تک کھلے عام غیر قانونی تجارت

ڈیرہ غازی خان (کرائم سیل رپورٹ ) ضلع ڈیرہ غازی خان خطرناک قسم کی سمگلنگ کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں نہ صرف غیر قانونی تجارت ایک منظم انداز میں چل رہی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود یہ کارروائیاں جاری ہیںجو کہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہیں۔ذرائع کے مطابق بواٹا بارڈر سے لے کر راکھی گاج چیک پوسٹ تک مختلف راستوں کے ذریعے گندم، کھاد اور دیگر اشیاء کی غیر قانونی ترسیل کا سلسلہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ بلوچستان سے سمگل شدہ سامان باآسانی راکھی گاج تک پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم جوائنٹ چیک پوسٹ کی موجودگی کے باوجود سمگلر چوٹی بالا اور دیگر دشوار گزار پہاڑی راستوں کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ چیک پوسٹیں محض نام کی حد تک موجود ہیں، جبکہ حقیقی کارروائی عدم توجہی کا شکار ہے۔سخی سرور چیک پوسٹ سے آگے ایجنسی ڈیزل اور پٹرول کی کھلے عام غیر قانونی فروخت بھی جاری ہے۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ متعلقہ افسران اس صورتحال پر خاموش ہیں اور عوامی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جیسے سب کچھ جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہو۔کھاد کی سمگلنگ خاص طور پر ایک قومی مسئلہ بن چکی ہے، جس سے نہ صرف زراعت متاثر ہو رہی ہے بلکہ عام کسان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سمگلنگ کے یہ نیٹ ورک بہت زیادہ منظم اور تیز ہیں۔ بلوچستان سے جب سامان لایا جاتا ہے تو اسے سبزی، پھل اور فروٹ کے نیچے چھپا کر منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ پنجاب سے کھاد اور دیگر اشیاء بلوچستان بھیجنے کے لیے انہی راستوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ چیک پوسٹوں پر ڈیلنگ کر کے یہ سامان آسانی سے منتقل کر لیا جاتا ہے۔ماضی میں کھاد اور گندم کی کھیپ بلوچستان کے علاقے میں کئی بار پکڑی جا چکی ہے، لیکن یہ ایک اہم سوال ہے کہ متعدد چیک پوسٹیں کراس کرنے کے باوجود یہ سامان کیسے پکڑا جاتا ہے؟ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں شدید خامیاں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چوہدری اشفاق احمد خان (کمشنر)، عثمان خالد (ڈپٹی کمشنر) اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز فوری نوٹس لیں اور عملی اقدامات کریں۔ خاص طور پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے، اسے مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے سمگلنگ کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔بارڈر ایریاز میں چیکنگ کا نظام مزید سخت کرنا، غیر قانونی راستوں کو سیل کرنا، اور ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جو کہ نہ صرف معیشت کے لیے بلکہ ملکی سلامتی کے لیے بھی بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں