ڈیرہ: روز کروڑوں کے ایرانی تیل و سامان کی سپلائی، پولیس، سمگلروں کے واٹس ایپ رابطے

ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر) تھانہ کوٹ چھٹہ کی حدود میں ایرانی تیل اور دیگر ممنوعہ سامان کی سمگلنگ ایک منظم اور طاقتور نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں مختلف علاقوں کو سمگلروں کے لیے محفوظ اور بہترین گزرگاہیں بنا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خانپور منجووالہ، مانہ احمدانی، بستی فوجہ، کوٹ چھٹہ اور گرد و نواح کے دیہات روزانہ کروڑوں روپے مالیت کے ایرانی تیل اور دیگر غیر قانونی سامان کی ترسیل کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جس سے قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سمگلنگ صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل نیٹ ورک کے تحت چلائی جا رہی ہے، جس میں مقامی پولیس اہلکاروں کے سمگلروں کے ساتھ مبینہ روابط سامنے آئے ہیں۔ ان روابط کے لیے وٹس ایپ جیسے جدید ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں، جہاں ناکہ بندیوں، گشت اور محفوظ راستوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سمگلنگ کے اس پورے نظام میں ہر گاڑی، ہر کھیپ اور ہر راستے کے لیے مخصوص ’’ریٹ‘‘ پہلے سے طے ہیں، جن کی ادائیگی کے بعد سامان بلا روک ٹوک اپنی منزل تک پہنچایا جاتا ہے مقامی آبادی کے مطابق ایرانی تیل کی کھلے عام فروخت نے علاقے میں قانونی کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سمگل شدہ تیل نہایت سستے داموں فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مقامی پٹرول پمپ مالکان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور قانونی تجارت دم توڑتی جا رہی ہے۔ عوام کا شکوہ ہے کہ ایرانی تیل کی فروخت سب کے سامنے ہو رہی ہے، مگر متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق تھانہ کوٹ چھٹہ کی حدود سے گزرنے والی سڑکیں سمگلروں کے لیے مرکزی روٹس کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں، جہاں دن رات مشکوک گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے سمنگلروں کو ’’سہولت کاری‘‘ فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث یہ غیر قانونی دھندا بلا خوف و خطر پھل پھول رہا ہے اور قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔علاقہ مکینوں، سماجی حلقوں اور تاجر برادری نے اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب، آر پی او ڈیرہ غازی خان اور دیگر اعلیٰ حکام سےنوٹس لینےکا مطالبہ کیا ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں