ڈپٹی کمشنر سب رجسٹرار مافیا کے سامنے ڈٹ گئے، جعلی رجسٹریوں کا دھندہ بند

گلشن مارکیٹ کے علاقہ کی جعلی فرد ملکیت کی حامل ایک کروڑ کی رجسٹری کروانے کی کوشش،ریکارڈ چیک ہونے پر جگہ سرکاری نکلی

سب رجسٹرار سٹی محمد شفیق نے تحقیقات کا حکم دے دیا، مافیا میں دوڑیں لگ گئیں، مزید مشکوک رجسٹریاں پاس کرانے کا عمل روک دیا

ملتان (سپیشل رپورٹر) سب رجسٹرار کی حاضر دماغی، جعلی رجسٹری ہوتے ہوتے رہ گئی۔ مافیا بے نقاب ہو گیا اور ضلعی انتظامیہ سالہا سال سے قابضین رجسٹری مافیا کے خلاف ڈٹ گئی۔ ملتان میں صدر سرکل کی رجسٹری برانچ میں سختی کی وجہ سے بیان کم ہو گئے اوررجسٹریاں کروانے میں لوگ محتاط ہو گئے جس کی وجہ سے مافیا کے ناجائز قابضین کی تمام تر ڈیلیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ ڈپٹی کمشنر ملتان کی مشاورت سے سب رجسٹرار کینٹ اور سب رجسٹرار سٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی رجسٹری مکمل تصدیق کے بعد پاس کی جائے گی اور کسی بھی صورت میں نچلے عملے پر اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ عملہ مافیا سے ملا ہوا ہے۔ رجسٹری برانچوں کے پرائیویٹ مافیا اور سب رجسٹرار سٹی کے درمیان جھگڑا اس بات پر ہوا کہ گلشن مارکیٹ کے علاقے کی ایک کروڑ روپے مالیت کی رجسٹری جس کی فرد ملکیت جعلی تھی۔ کروانے کی کوشش کی اور اس کا نقشہ بھی ساتھ نہ تھا۔ سرکاری ریکارڈ چیک ہوا تو مذکورہ جگہ حکومت کی ملکیت نکلی جس پر رجسٹری روک دی گئی اور سب رجسٹرار سٹی محمد شفیق نے تحقیقات کا حکم دے دیا، اس حکم کے بعد مافیا میں دوڑیں لگ گئیں اور انہوں نے مزید مشکوک رجسٹریاں پاس کرانے کا عمل روک دیا۔ اس سے قبل بھی سب رجسٹرار سٹی محمد شفیق نے متعدد مشکوک رجسٹریاں روک رکھی ہیں کہ جب تک سرکاری ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال نہیں ہو گی رجسٹری پاس نہیں ہو گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں