ملتان (سٹاف رپورٹر) ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ کے گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کے دورے نے ادارے میں جاری انتظامی بدحالی، غیر سنجیدگی اور قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق معزز ڈپٹی سپیکر کے استقبال کے موقع پر یونیورسٹی کے کسی بھی پروفیسر، پرو وائس چانسلر یا دیگر اعلیٰ افسران کی موجودگی دیکھنے میں نہیں آئی جبکہ حیران کن طور پر گریڈ 14 کے کلریکل ملازمین استقبال کے فرائض سرانجام دیتے نظر آئے۔ اس غیر معمولی اور شرمناک صورتحال نے یونیورسٹی انتظامیہ کی ترجیحات اور ادارہ جاتی وقار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ مزید انکشاف یہ ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے لینڈ ریکارڈ کے کیئر ٹیکر چوہدری محمد اشرف (بی پی ایس 14) جو کہ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی کے ملازم ہی نہیں، نہ صرف ڈپٹی سپیکر کے استقبال کے لیے موجود تھے بلکہ اجلاس میں شرکت بھی کرتے پائے گئے۔ سوال یہ ہے کہ ایک غیر متعلقہ ادارے کا کلریکل ملازم کس قانونی، انتظامی یا سرکاری حیثیت میں ویمن یونیورسٹی کے حساس معاملات کا حصہ بنا؟ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ چوہدری محمد اشرف وائس چانسلر گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی سرکاری گاڑی Haval HEV H6 GBJ -055 میں کیمپس پہنچے اور بعد ازاں اسی سرکاری گاڑی میں واپس روانہ ہوئےحالانکہ وہ اس گاڑی کے استعمال کے کسی طور مجاز نہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خود یونیورسٹی کے پروفیسرز اور دیگر سینئر افسران کو سرکاری امور کے لیے بھی یونیورسٹی گاڑی فراہم نہیں کی جاتی جبکہ ایک غیر متعلقہ ادارے کے بی پی ایس 14 کے ملازم کے لیے سرکاری گاڑی کا استعمال کھلے عام کرایا گیا۔ یہ عمل نہ صرف سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے بلکہ پنجاب گورنمنٹ کے قواعد، یونیورسٹی ایکٹ اور انتظامی نظم و ضبط کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا وائس چانسلر کی جانب سے یہ سہولت ذاتی پسند، مخصوص گروہ بندی یا کسی غیر اعلانیہ اثر و رسوخ کے تحت دی گئی؟ سٹاف کار رولز گورنمنٹ آ ف پنجاب کے تہت سرکاری گاڑی کا استعمال گریڈ 16 اور اس سے زیادہ کے سرکاری ملازمین کے لیےہوتاہے۔ محمد اشرف نہ تو گریڈ 16 کا ملازم ہے نہ ہی گورنمنٹ صادق کالج میں کسی عہدے پر فائز ہےنیز یہ بھی معلوم پڑا ہوا ہے کہ اشرف نامی یہ صاحب جیل بھی کاٹ چکے ہیںاور متعدد FIR اور بد انتظامی کے معمولات میں ملوث پائے گئے ہیں۔تعلیمی، سماجی اور سرکاری حلقوں میں اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب فوری طور پر اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائے، ذمہ داران کا تعین کرے اور سرکاری وسائل کے بے جا استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بصورت دیگر یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور ایک تعلیمی ادارہ کم اور انتظامی بے قاعدگیوں کی تجربہ گاہ زیادہ بنتی جا رہی ہےجہاں قانون و ضابطہ صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔







