ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا تجربہ سرٹیفکیٹ، زکریا یونیورسٹی نے بھی جعلی ہونے کی تصدیق کردی

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی کی غیر قانونی و عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے میمونہ پوسٹ گریجویٹ کالج کے بنوائے گئے جعلی تجربے اور اس بارے میں بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کا موقف سامنے آ گیا ہے۔ میمونہ پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن ملتان کے لیٹر پیڈ پر جاری کیا جانے والا ایک تجربہ سرٹیفکیٹ سوالیہ نشان بن گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ دستاویز ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے خود بنوائی۔ دستاویز کے مطابق 10 اپریل 2019 کو ریفرنس نمبر 1894-MPGC-19 کے تحت جاری کیے گئے اس تجربہ سرٹیفکیٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مس کلثوم پراچہ دختر محمد خالد پراچہ نے اکتوبر 1997 سے 30 ستمبر 2013 تک Mamoona Post Graduate College for Women Multan میں اسلامیات کے مضمون میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سرانجام دیں۔ سرٹیفکیٹ میں انہیں شعبہ کی سربراہ (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ) بھی ظاہر کیا گیا ہے اور ان کی تدریسی خدمات کو نہایت مثبت الفاظ میں سراہا گیا ہے۔ مزید برآں سرٹیفکیٹ میں درج ہے کہ مذکورہ کالج حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹرڈ اور بہاالدین زکریایونیورسٹی ملتان سے الحاق شدہ ہے۔ تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سرٹیفکیٹ کے اجرا کے طریقہ کار، دستخط اور تصدیقی مراحل کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ مذکورہ تجربہ سرٹیفکیٹ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے خود بنوایاجس کی باقاعدہ منظوری اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیٹر ہیڈ پر جاری ہونے والی دستاویزات میں شفافیت نہ ہو تو اس سے نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ مجموعی تعلیمی نظام پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ اس تجربے کے سرٹیفکیٹ کے جعلی ہونے کی تصدیق خود بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کر چکی ہے جس کے مطابق (بی زیڈ یو) نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت موصول ہونے والی درخواست پر باضابطہ اور تحریری موقف جاری کر دیا ہےجس میں میمونہ پوسٹ گریجویٹ کالج ملتان کی فیکلٹی سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ خط کے مطابق یہ معلومات پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت طلب کی گئی تھیں۔ درخواست میں اسلامیات کی استاد کلثوم سعید کی ملازمت کی درست مدت اور ان کی تاریخ تقرری سے متعلق ریکارڈ فراہم کرنے کا کہا گیا تھا۔ بی زیڈ یو کے سیکرٹری الحاق کمیٹی کی جانب سے جاری جواب میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی نے میمونہ پوسٹ گریجویٹ کالج ملتان کو الحاق بذریعہ مراسلہ نمبر Aff-53/6097/RS مورخہ 15-07-2008 (BA/BS/MA/MSc پروگرامز) کے تحت تین سالہ مدت کے لیے سیشنز 2007، 2008 اور 2009 کے لیے الحاق دیا تھا۔ اس دوران کالج کی جانب سے فراہم کردہ فیکلٹی لسٹ میں پہلی مرتبہ کلثوم سعید کا نام شامل کیا گیا تھا۔ موقف کے مطابق بعد ازاں مذکورہ کالج نے دوبارہ سیشنز 2011، 2012 اور 2013 کے لیے الحاق میں توسیع کے وقت بھی فیکلٹی کی فہرست جمع کرائی جس میں کلثوم سعید کا نام شامل تھا۔ اسی طرح سیشن 2014 کے لیے بھی کالج کی جانب سے جمع کرائی گئی فہرست میں ان کا نام شامل کیا گیا۔ یونیورسٹی کے تحریری جواب میں واضح کیا گیا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق کالج نے کلثوم سعید (اسلامک سٹڈیز) کا نام سیشنز 2007، 2008، 2009، 2011، 2012، 2013 اور 2014 میں فیکلٹی ممبر کے طور پر شامل کیا۔ مزید یہ کہ یونیورسٹی الحاق یا توسیع الحاق کے وقت کالج سے فیکلٹی کا مکمل ڈیٹا طلب کرتی ہے اور اسی بنیاد پر ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔ بی زیڈ یو کے اس باضابطہ موقف کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یونیورسٹی نے آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق مکمل معلومات فراہم کر دی ہیں، جبکہ فیکلٹی کی شمولیت سے متعلق اندراجات کالج کی جانب سے جمع کرائی گئی فہرستوں پر مبنی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں