ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں مبینہ بدانتظامی، اقربا پروری اور غیر قانونی پروموشنز کے انکشافات نے ایک نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے، پہلے سے متنازع رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کے خلاف سامنے آنے والی دستاویزی شواہد نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقات اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر نہ صرف اپنی تعیناتی اور ترقی کے حوالے سے مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے بلکہ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور اپنے قریبی عزیزوں کو نوازنے کے بھی سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 2018 میں نان ٹیچنگ سٹاف (BS-01 تا BS-16) کی بھرتیوں کے لیے قائم کردہ سلیکشن کمیٹی کے کنوینر کی حیثیت سے ڈاکٹر عاصم عمر نے یکم اگست 2018 کو خود وائس چانسلر کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ چونکہ ان کے بھائی امیدواروں میں شامل ہیں اس لیے وہ انٹرویوز میں شرکت نہیں کریں گے۔ تاہم 3 ستمبر 2018 کو ہونے والے سلیکشن کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی نے اس بیان کی نفی کر دی کیونکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ نہ صرف اجلاس میں بطور کنوینر شریک ہوئے بلکہ منٹس اور امیدواروں کی مارک شیٹس پر ان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اس تضاد نے بھرتیوں کے پورے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔ مزید برآں انہی بھرتیوں کے نتیجے میں ان کے قریبی رشتہ دار کامران عمر کو اسسٹنٹ (BS-16) کے عہدے پر تعینات کیا گیا جسے تعلیمی حلقوں نے کھلی اقربا پروری اور مفادات کے ٹکراؤ کی واضح مثال قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف میرٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ سرکاری قواعد و ضوابط کی بھی صریح پامالی ہےجس کے خلاف فوری کارروائی ناگزیر ہے۔ تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر کی اپنی پروموشنز بھی شدید سوالات کی زد میں ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قواعد کے مطابق ایسوسی ایٹ پروفیسر (BS-20) کے لیے کم از کم 10 سال اور پروفیسر (BS-21) کے لیے 15 سال متعلقہ تدریسی یا تحقیقی تجربہ لازمی ہوتا ہے، تاہم دستیاب ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر اس شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے تجربے میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں بطور جونیئر ڈیمانسٹریٹر خدمات کو شامل کیا گیا، جبکہ ان کا بنیادی شعبہ کیمیکل انجینئرنگ تھا، جسے ماہرین نے غیر متعلقہ قرار دیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے اپنے تجربے کی تصدیق کے لیے کوئی مستند سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیا جبکہ بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ کام کرنے کا بھی کوئی باضابطہ تقرری لیٹر فراہم نہ کیا جا سکا۔ ان حقائق کی روشنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی پروموشنز میرٹ کے بجائے اثر و رسوخ کا نتیجہ معلوم ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر گزشتہ 14 سال سے ایڈیشنل چارج پر رجسٹرار کے عہدے پر براجمان ہیں جو کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ قواعد کے مطابق یہ چارج صرف 6 ماہ کے لیے دیا جا سکتا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران متعدد وائس چانسلرز تبدیل ہوئے مگر مستقل رجسٹرار کی تعیناتی عمل میں نہ لائی جا سکی جسے ایک منظم نظام کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر ہر نئے وائس چانسلر کے سامنے ابتدا میں استعفیٰ پیش کر کے ہمدردی حاصل کرتے ہیں اور بعد ازاں دوبارہ اسی عہدے پر برقرار رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر نے خود انٹرویوز سے علیحدگی ظاہر کرنے کے باوجود سلیکشن کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے دستخط کیے، سلیکشن کمیٹی کے ریکارڈ اور مارک شیٹس میں ان کی بطور کنوینر موجودگی ثابت شدہ ہے، ان کے قریبی رشتہ دار کی تعیناتی اقربا پروری کی واضح مثال ہے، ان کی اپنی پروموشنز مطلوبہ تجربہ اور متعلقہ شعبے کی شرط پوری کیے بغیر کی گئیں، غیر متعلقہ تجربے کو شامل کر کے ترقی حاصل کرنا قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے، 14 سال تک ایڈیشنل چارج پر برقرار رہنا اور مستقل رجسٹرار کی تعیناتی نہ ہونا ایک غیر معمولی اور مشکوک عمل ہے، جبکہ یونیورسٹی میں مبینہ طور پر غیر قانونی تقرریوں اور تیز رفتار ترقیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے ان انکشافات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، غیر قانونی تقرریوں اور پروموشنز کو کالعدم قرار دیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف ادارے کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی بلکہ اعلیٰ تعلیم کے پورے نظام پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جائے گا۔ یہ تمام صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دے رہی ہے کہ آیا قانون اور میرٹ واقعی بااثر افراد پر بھی لاگو ہوتے ہیں یا نہیں، جبکہ محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان اس وقت شفافیت اور انصاف کے ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔اس بارے میں وائس چانسلر محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد کا کہنا تھا کہ یہ انکوائری رولز کے مطابق ہو رہی ہے اور اس کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا۔







