
ملتان( سٹاف رپورٹر)جعلی ،بے بنیاد جھوٹے اور فرضی مقدمات کی بھرمار والے شہر ملتان میں درخواست کے ساتھ ثبوت فراہم کئے جانے کے باوجود چھ روز گزر گئے ایمرسن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کے باورچی کی درخواست پر تھانہ بی زیڈ میں مقدمہ درج نہ ہو سکا۔ ایس ایچ او تھانہ بی زیڈ نے روزنامہ قوم کے سٹاف ممبران اور مدعی اعجاز حسین کے ہمراہ وی سی ہاؤس سے ملحقہ باورچی کی رہائش گاہ سے مقدمہ کےثبوت کے طور پر وہ موبائل بھی برآمد کر لیا جس سے اعجازحسین نے ڈاکٹر رمضان کی بدفعلی میں مصروف ہونے کی ویڈیو بنائی تھی اور وہ واسکٹ بھی برآمد کر لی جس کی اندرونی جیب میں سوراخ کر کے اس میں موبائل چسپاں کر کے ویڈیو بنائی گئی تھی ۔پہلے تو تین روز تک پولیس تھانہ بی زیڈ نے درخواست ہی وصول نہ کی اور تھانہ کے فرنٹ ڈیسک پر موجود عملے نے سرے سے درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا پھر قائم مقام چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کی طرف سے کمشنر ملتان کے کمیٹی روم میں اعجاز حسین اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان کو علیحدہ علیحدہ بلا کر تفصیلی انکوائری کی گئی اور اس انکوائری کا حکم وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے دیا گیا تھا۔ پولیس نے اعجاز حسین سے پانچ سادہ کاغذات پر دستخط اور انگوٹھے بھی لگوا رکھے ہیں مگر 6 روز گزرنے کے باوجود مقدمہ کا اندراج تو درکنار پولیس مقدمہ بارے بتانے سے بھی گریزاں ہے۔ پولیس ہی کے بعض ذرائع کے مطابق یہ مقدمہ آر پی او ملتان سہیل چو ہدری کی اجازت سے درج ہوگا اور تمام تر کارروائی ان کے علم میں ہے جونہی وہ کلیئرنس دیں گے۔ اسی رات مقدمہ درج ہو جائے گا ۔علاوہ ازیں تھانہ بی زیڈ پولیس اس بات سےبھی انکاری ہے کہ انہوں نے مدعی اعجاز حسین سے کسی بھی قسم کے سادہ کاغذات پر دستخط اور انگوٹھے لگوائے ہیں جبکہ یہ تمام تر باریک کام پولیس نے روزنامہ قوم کے سٹاف ممبران کے سامنے کمشنر آفس کے احاطے میں سرانجام دیا تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم کی طرف سے ڈاکٹر رمضان کی بدفعلی کا انکشاف کرتے ہوئے بننے والی ویڈیو کا فارنزک آڈٹ کرایا گیا تھا جس میں ویڈیو کے حقیقی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر رمضان اور رجسٹرار کا کرپشن نیٹ ورک، 14 لاکھ ہڑپ، ناقص کنسٹرکشن، 4 ملازم زخمی
ملتان(سٹاف رپورٹر)اخلاقی اور مالی کرپشن میں ملوث ہو کر دن رات دہاڑیاں لگانے والے ایمرسن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر نے اپنے منظور نظر رجسٹرار کی ملی بھگت سے یونیورسٹی میں بھرتی ہونے والے 14 بیلداروں تین تین ماہ کی تنخواہیں بھی ہضم کر لیں اور گزشتہ دنوں شدید احتجاج کے بعد اب صرف ایک ایک ماہ کی تنخواہ دی گئی اور اس طرح 14 سوئیپروں کی تقریباً 14 لاکھ روپے تنخواہ بھی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان، رجسٹرا ڈاکٹر فاروق اور خزانچی دبائے بیٹھے ہیں۔ یونیورسٹی میں غیر معیاری کنسٹرکشن اور اس کنسٹرکشن کو دکھا کر شہر بھر کے تاجروں، صنعت کاروں اور ایلومنائی کے لوگوں سے لی جانے والی امدادی رقوم سے ہونے والی ناقص کنسٹرکشن کا بھانڈا گزشتہ روز اس وقت پھوٹ گیا جب نئے تعمیر ہونے والے ٹیوب ویل کے تالاب کی دیوار پانی کا پریشر برداشت نہ کر سکی اور گر گئی جس سے چار ملازمین نہاتے ہوئے زخمی ہو گئے۔ دانش نامی ایک سینٹری ورکر کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ آصف بیلدار بھی زیادہ زخمی ہونے والوں میں شامل ہے۔ دیگر دو ملازمین معمولی زخمی ہوئے ۔مذکورہ ٹیوب ویل گراؤنڈز کو پانی دینے کے لئے نصب کیا گیا تھا۔
