ملتان( سٹاف رپورٹر) ایمر سن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کا اپنے باورچی کے ساتھ جنسی سیکنڈل سامنے آنے کے بعد ان کے پولیس انتظامیہ اور میدان سیاست میں موجود بااثر لوگ ان کو پولیس کیس سے بچانے کی سرتو کوشش کررہے ہیں اور چار روز گزرنے کے باوجود باورچی اعجاز حسین کی طرف سے ویڈیو کی فرانزک رپورٹ میں تصدیق ہونے کے باوجود تھانہ بی زیڈ یو میں دائر مقدمے کی درخواست پر کارروائی نہ ہوسکی۔ بی زیڈ یو پولیس نے ایمرسن یونیورسٹی میں اعجاز حسین کے گھر سے اس کا وہی موبائل بھی قبضہ میں لے لیا جس سے ویڈیو بنائی گئی تھی اور پھر ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ملتان میں انکوائری کے دوران اعجاز حسین سے سوال کیا تھا کہ موبائل کہاں چھپایا تھا تو اس نےبتایا کہ جیکٹ کی اندرونی جیب میں دو انچ قطر کا سوراخ کرکے اس میں موبائل رکھا تھا جس سے مذکورہ فحش فلم بنائی گئی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ نے پولیس کو حکم دیا کہ مذکورہ موبائل اورواسکٹ برآمد کی جائے جس پر بی زیڈ یو پولیس کے ایس ایچ او رئوف لوٹھر نے روزنامہ ’’قوم‘‘ کے سٹاف ممبران قلب حسن، محمد عثمان اور ملک عامر کی موجودگی میں اعجاز حسین سے اس کے کوارٹر جاکر موبائل اور واسکٹ قبضے میں لے کر اسے مال مقدمہ کا حصہ بنا لیا جو 4روز گزرنے کے باوجود بھی درج نہ ہوسکا اور بتایا جارہا ہے کہ نارروال کا ڈومیسائل میرٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر رمضان کو اپنی اہلیہ اور بچوں کی طرف سے بھی شدید ناراضگی کا سامنا ہے اور اس گھنائونے عمل سے انہیں کہیں بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔
باورچی اعجاز کی تنخواہ بند، یونیورسٹی چھوڑنے کا حکم، ناجائز رجسٹرار فاروق کے انتقامی ہتھکنڈے

ملتان( وقائع نگار) ایمرسن یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر فاروق چوہدری نے ڈیل کے بعد مطلوبہ تعلیم نہ ہونے کے باوجود گریڈ14 میں بھرتی ہونے والے ہارٹیکلچر آفیسر کے تقرری کے احکامات روک دئیے ۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز ملتان کے رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی ساجد گجر کے ہمراہ خصوصی طور پر ایمرسن یونیورسٹی گئے اور رجسٹرار سے ہارٹیکلچر آفیسر کامران نواز کا تقرر نامہ جاری کرنے کا کہا مگر ڈاکٹر فاروق نے انکار کردیا اور موقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی میں پہلے ہی سے بھرتیوں کی انکوائری ہورہی ہے اور کامران نواز کے حوالے سے کسی نے تحریری شکایت کی ہے کہ کامران نواز کے پاس مطلوبہ تعلیمی ڈگری نہیں ہے کیونکہ اس اسامی کے لیے ہارٹیکلچر کی بی ایس کی ڈگری درکار تھی جبکہ کامران نواز نےفاریسٹری میں بی ایس کی ڈگری لے رکھی ہے۔ دیر تک بحث و مباحثے کے باوجود ڈاکٹر فاروق چوہدری اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور کہا کہ یونیورسٹی کے معاملات پہلے ہی بہت زیادہ تنقید کی زد میں ہیں ایسے میں وہ کسی بھی قسم کا میرٹ کے پرعکس فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ڈاکٹر فاروق چوہدری نے علی قاسم گیلانی سے درخواست کی کہ ڈاکٹر رمضان کو ایمرسن یونیورسٹی میں بطور وائس چانسلر لانے ہیں ہماری مدد کریں تو یہ لیٹر بھی وہ واپس آتے ہی جاری کردیں گے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق اس سلیکشن کمیٹی کی غیر قانونی جسٹریشن تھے۔