ملتان(سٹاف رپورٹر)اخلاقی اور مالی کرپشن میں ملوث ہو کر دن رات دہاڑیاں لگانے والے ایمرسن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر نے اپنے منظور نظر رجسٹرار کی ملی بھگت سے یونیورسٹی میں بھرتی ہونے والے 14 بیلداروں تین تین ماہ کی تنخواہیں بھی ہضم کر لیں اور گزشتہ دنوں شدید احتجاج کے بعد اب صرف ایک ایک ماہ کی تنخواہ دی گئی اور اس طرح 14 سوئیپروں کی تقریباً 14 لاکھ روپے تنخواہ بھی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان، رجسٹرا ڈاکٹر فاروق اور خزانچی دبائے بیٹھے ہیں۔ یونیورسٹی میں غیر معیاری کنسٹرکشن اور اس کنسٹرکشن کو دکھا کر شہر بھر کے تاجروں، صنعت کاروں اور ایلومنائی کے لوگوں سے لی جانے والی امدادی رقوم سے ہونے والی ناقص کنسٹرکشن کا بھانڈا گزشتہ روز اس وقت پھوٹ گیا جب نئے تعمیر ہونے والے ٹیوب ویل کے تالاب کی دیوار پانی کا پریشر برداشت نہ کر سکی اور گر گئی جس سے چار ملازمین نہاتے ہوئے زخمی ہو گئے۔ دانش نامی ایک سینٹری ورکر کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ آصف بیلدار بھی زیادہ زخمی ہونے والوں میں شامل ہے۔ دیگر دو ملازمین معمولی زخمی ہوئے ۔مذکورہ ٹیوب ویل گراؤنڈز کو پانی دینے کے لئے نصب کیا گیا تھا۔
