ڈاکٹر بھابھہ کی ڈی این اے رپورٹ مثبت، طلاق کے باوجود غیر شرعی تعلق و تشدد ثابت

ملتان (سٹاف رپورٹر)زکریا یونیورسٹی کے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ میں اپنے ہی ماتحت اسسٹنٹ پروفیسر کو بلیک میل کر کے شادی کرنے، پھر طلاق کاغذات تیار کرکے اسے مطلع کیے بغیر طلاق کے باوجود شرعی تعلقات غیر شرعی طور پر استوار رکھنے اور اپنے کمرے میں بلا کر جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے والے ہیڈ آف فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کی ڈی این اے رپورٹ میں جسمانی و جنسی تشدد ثابت ہو چکا ہے اور اس بات سے یونیورسٹی انتظامیہ کو ماتحت پولیس ملازمین نے پہلے ہی سے کر دیا تھا جس پر اساتذہ کی تنظیم نے وائس چانسلر پر دباؤ ڈال کر ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کو معطلی سے دوبارہ بحال کروا لیا اور دوسری طرف ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ نے تفتیش تبدیلی کی درخواست دے دی جس کی شنوائی سٹی پولیس آفیسر ملتان کی نگرانی میں بننے والی ٹیم نے کی مگر ڈی این اے مثبت آنے پر باوجود کوشش ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ پولیس سے سہولت کاری نہ لے سکے۔ بتایا گیا ہے کہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جنوبی پنجاب کو اس مقدمے کی تفتیش میں جانبداری سے کام لینے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے لیے بھی درخواست دے دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ نے اپنے ہی دفتر میں اسی ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ افضل کو اپنے کمرے میں بلا کر اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب ڈاکٹر شازیہ کے علم میں ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کی پہلی اہلیہ کے ذرائع سے اس خبر کی تصدیق ہو گئی کہ ڈاکٹر بھابھہ تو انہیں کئی ماہ پہلے طلاق دے چکے ہیں اور طلاق کی کاپی یونین کونسل میں بھی بھجوا چکے ہیں مگر ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں جس پر دونوں کے درمیان تلخی ہوئی تو ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ نے اپنی سابقہ اہلیہ ڈاکٹر شازیہ افضل پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کی انکوائری وائس چانسلر کے حکم پر ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر رحمہ حفیظ کی سربراہی میں شروع ہوئی مگر بعد ازاں دباؤ میں آ کر یہ انکوائری تعطل کا شکار ہو گئی۔ دوسری طرف تھانہ ڈی ایچ اے کی پولیس نے ڈاکٹر شازیہ کی 15 پر کی جانے والی کال پر موقع معائنہ کر کے ان سے درخواست لے کر مقدمہ درج کر لیا مگر ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کی دوستی کی وجہ سے ڈاکٹر احسان بھابھہ کو ہر مرحلے پر سہولت کاری ملتی گئی مگر ڈی این اے میں سفارش نہ چل سکی اور پنجاب فارنزک لیبارٹری نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا اور بالاخر ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کا اونٹ پہاڑ کے نیچے آ گیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں