ڈاکو سے ڈیل، ایس ایچ او صدر دنیا پور چارج شیٹ بر آمد، گاڑی پر ریڈر، ڈی پی او کا قبضہ،3 غائب

ملتان (قوم کرائم سیل) چار قیمتی گاڑیوں ،موبائل، نقدی اور زیورات ہڑپ کرنے کے الزام میں سابق ڈی پی او لودھراں نے سابق ایس ایچ او صدر دنیا پور رائے نزاکت سب انسپکٹر کو چارج شیٹ کیا کہ اس نے ڈاکو محمد عاصم بلوچ سکنہ دنیا پور کو گرفتار کیا اور اس کی گرفتاری اور کریمنل ریکارڈ بارے افسران کو نہ بتایا اور بالابالاہی ڈیل کر لی۔ اسی دوران درخواست دہندہ سے اٹھارہ لاکھ کی ڈیمانڈ کی اور اس کو سزا کروانےکے بجائے اسکی سہولت کاری کی اور اس ملزم سے چھ گاڑیاں جن میں ایک کار جی ایل آئی کلر سفید ماڈل 2017، دو گاڑیاں، ایک کار جی ایل آئی کلر گرے ماڈل 2012 جعلی نمبر،ایک کار جی ایل آئی سلور کلر ماڈل 2010 فرضی نمبر، 5 کار جی ایل آئی کلر سفید ماڈل 2008/9، اور چھٹی کار جی ایل آئی رنگ گرے ماڈل 2010/11 جو کہ منڈی بہاالدین سے برآمد کرکے لائی گئی۔ اسکے علاوہ ایک لاکھ باسٹھ ہزار نقد اور ایک لاکھ دس ہزار روپے اے ٹی ایم سے اور متعدد قیمتی موبائل برآمد ہوئے مگر تمام معاملات افسران کے نہ ہی نوٹس میں دیئے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ ان الزامات پر کئی ڈی پی اوز کے اس چہیتے سب انسپکٹر کو چارج شیٹ کیا گیا۔ دوسری طرف بھاری رقوم اور دو نمبر گاڑیوں کی جھلک دیکھتے ہی پولیس ایڈمن میں موجود اس کی سہولت کار لابی نے مفت کے مال پر نظریں گاڑھ لیں اور سابقہ ڈی پی او کامران ممتاز نے گاڑیاں ریڈر ڈی پی او خضر اعوان کے حوالے کروا دیں۔ پولیس ذرائع سے جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق ان چھ کاروں میں سے ایک گاڑی سٹی لودھراں میں ایک خاتون مدعی کو دی جبکہ ایک اور گاڑی صدر کہروڑ پکا کے ایک مدعی کو ریکوری کی مد میں دی گئی جبکہ چار گاڑیوں کے بارے میں کسی کو بھی معلوم نہیں کہ وہ کس کے کھاتے میں گئی ہیں اور کہاں ہیں۔بچ جانے والی چار گاڑیوں میں سے ایک گاڑی کے بارے میں اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ یہ گاڑی ریڈر ڈی پی او خضر اعوان کے ذاتی استعمال میں ہے جس پر موصوف اپنی اصل گاڑی کی ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹیں لگوا کر اپنی فیملی کے لئے استعمال کر رہا ہے اور خود بھی اکثر اوقات اسی گاڑی پر دفتر بھی آتا جاتا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ۔اگر موجودہ ڈی پی او لودھراں دفتر کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج منگوا کر چیک کریں تو گاڑی کے بارے میں شواہد سامنے آ سکتے ہیں جبکہ بقیہ تین گاڑیوں کی جانچ پڑتال بھی ضروری ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے ڈی پی او لودھراں کیا اس لابی کو توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا انہی کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈی پی او آفس لودھراں میں عرصہ دراز سے ایک مخصوص لابی نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور ضلع لودھراں کے دس میں سے پانچ تھانوں میں ایس ایچ اوز بغیر میرٹ کے اسی لابی کے ذریعے لگوائے جاتے ہیں اور میرٹ پر کام کرنے والے اکثر پولیس افسران کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں جس کی تفصیلات روزنامہ قوم نے پہلے ہی شائع کی تھی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں