چین میں کورونا کے بعد نیا وائرس پھیلنے لگا، پاکستان میں بھی موجودگی کی تصدیق

چین میں کورونا کے بعد نیا وائرس پھیلنے لگا، پاکستان میں بھی موجودگی کی تصدیق

چین میں کورونا وائرس کے پانچ سال بعد کووڈ 19 جیسا نیا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کا نام ہیومن میٹا پینو وائرس (ایچ ایم پی وی) ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ وائرس زیادہ تر 14 سال اور اس سے کم عمر کے بچوں میں پایا جا رہا ہے، تاہم اس کی درست شدت ابھی واضح نہیں۔

ہیومن میٹا پینو وائرس پہلی بار 2000 میں سامنے آیا تھا اور اس کی شدت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ امریکا میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 20 ہزار بچے اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین نے وائرس سے بچاؤ کے لیے کورونا وائرس جیسی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وائرس سے متاثرہ افراد میں نزلہ اور کورونا جیسی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ چین کے اسپتالوں میں اس وقت ایچ ایم پی وی سمیت سانس کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو کہ چار بڑے وائرل انفیکشنز میں سے ایک ہے۔

قومی ادارہ صحت کا بیان

پاکستان کے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے اس حوالے سے وضاحت جاری کی ہے کہ چین میں پھیلنے والا ایچ ایم پی وی تقریباً دو دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے۔ این آئی ایچ کے مطابق اس وائرس کی پاکستان میں پہلی تشخیص 2001 میں ہوئی تھی، جبکہ 2015 میں پمز اسپتال اسلام آباد میں اس کے 21 کیسز سامنے آئے تھے۔

این آئی ایچ حکام نے مزید بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس کے حوالے سے فی الحال کوئی ایڈوائزری جاری نہیں کی۔ حکام کے مطابق چین کی صورتحال پر غور کے لیے این سی او سی کا اجلاس 7 جنوری کو منعقد ہوگا۔

ماہرین کی رائے

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ ایم پی وی کے کیسز اکثر رپورٹ ہوتے ہیں اور یہ کوئی نیا وائرس نہیں ہے۔ پاکستان میں اس وقت موسمی انفلوئنزا، خصوصاً انفلوئنزا اے اور بی کے کیسز زیادہ دیکھے جا رہے ہیں۔

احتیاطی تدابیر

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس جیسی حفاظتی تدابیر اختیار کریں، جن میں ماسک کا استعمال، سماجی فاصلے کی پابندی، اور ہاتھوں کی صفائی شامل ہیں، تاکہ اس وائرس سے بچا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں