لاہور(ہادی احمد،سپیشل رپورٹر)پاکستان کی نجی شعبہ کی ایک آئل کمپنی سے بھاری ڈیل کے تحت وفاقی حکومت کے ادارے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا کا چیئرمین بننے والے مسرور خان نے حکومتی اور عوامی مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے آئل کمپنیوں اور غیر معیاری آئل فروخت کرنے والی مختلف کمپنیوں کے پٹرول پمپ مالکان کیلئے سہولت کاری کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ چور بازاری، ملاوٹ، اوور چارجنگ اور دیگر عوامی جرائم میں جرمانوں کی شرح میں 100 فیصد سے بھی زائد مجموعی طور پر کمی کر دی ہے۔ ایک معروف آئل کمپنی میں سالہا سال ملازمت کرنے والے مسرور خان جب سے اوگرا کے چیئرمین بنے ہیں ان کی ترجیحات میں نہ تو حکومت پاکستان کے مفادات ہیں اور نہ ہی عوامی مفادات بلکہ ان کا ہر فیصلہ آئل کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ اور سہولت کاری کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اوگرا نے 2020 میںآج سے پانچ سال قبل مختلف خلاف ورزیوں پر جو جرمانے عائد کئے تھے مسرور خان نے چار سال بعد ان میں جو کمی کی، اس کی تفصیلات اس طرح سے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد پٹرول پمپس پر ملک بھر میں ملاوٹ چوری اور زائد نرخ لینے کی شکایات میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ 24 مئی 2020 میں اوگرا کی ایک اعلیٰ سطح میٹنگ میں جو فیصلے کئے گئے ان کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا جس کے مطابق اوور چارجنگ پر 11 پیسے فی لٹرسے لے کر 49 پیسے فی لٹر اضافی وصول کرنے پر 75 ہزارروپے جرمانہ برقرار رکھا گیا۔ 50 پیسے سے 99 پیسے تک اضافی رقم فی لٹر چارج کرنے پر ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ ،ایک روپے سے لے کر ایک روپے 99 پیسے اضافی چارج کرنے پر تین لاکھ روپے جرمانہ جبکہ دو روپے فی لٹر زائد چارج کرنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ رکھا گیا۔ اس کے اطلاق کے بعد ملک بھر میں اوور چارجنگ میں نمایاں کمی آگئی اور ہزاروں پٹرول پمپس مالکان نے سرےسے اوور چارجنگ ہی بند کر دی کہ جتنا اوور چارج کر کے وہ کماتے تھے ایک ہی جھٹکے میں جرمانے میں چلا جاتا تھا۔ اسی طرح کم پیمانہ رکھنے پر فی لٹر اگر 11 سے 20 میٹر ملی لٹر کم پٹرول یا ڈیزل تک ہوتا تو 50 ہزار روپے جرمانہ، اگر پیمانے میں 21 سے 30 ملی لٹر کمی فی لٹر ہوتی تو 75 ہزار روپے جرمانہ جبکہ 31 ملی لٹر یا اس سے زائد کم پیمانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد تھا۔ اگر کوئی پٹرول پمپ مالک دوسری مرتبہ کم پیمانے پر پکڑا جاتا تو جرمانہ پانچ لاکھ اور اگر کوئی دوسری مرتبہ ملاوٹ کا مرتکب ہوتا تو بھی جرمانہ پانچ لاکھ جبکہ تیسری مرتبہ ملاوٹ کم پیمانے یا چیکنگ سٹاف سے بدتمیزی اور رکاوٹ بننے پر جرمانے کی رقم 10 لاکھ روپے رکھی گئی تھی ۔ان جرمانوں کے اطلاق سے بہت حد تک جہاں کم پیمائش، ملاوٹ، اوور چارجنگ وغیرہ میں کمی ہو گئی تھی وہیں پر اوگرا کو بھی جرمانے کی مد میں نمایاں آمدن ہوتی تھی جس کا حکومتی خزانے پر بوجھ بھی کم ہوتا ۔ایک معروف آئل کمپنی کے ایگزیکٹو سے براہ راست مبینہ ڈیل کر کے چیئرمین اوگرا بننے والے مسرور خان نے چار سال بعد 22 فروری 2024 میں چار سال بعد آئل کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان کیلئے سہولت کاری کی انتہا کر دی اور 22 فروری 2024 کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے تحت 23 فروری 2024 کو اوگرا کی طرف سے لیٹر نمبر 12۔1(4)2024کے تحت جو نوٹیفکیشن جاری ہوا اس میں اوور چارجنگ پر 11 پیسے فی لٹر سے 20 پیسے فی لٹر پر جرمانہ ہی ختم کر دیا گیا اور محض وارننگ پر ہی معاملہ نپٹا دیا گیا۔ 50 پیسے سے 99 پیسے فی لٹر اوور چارجنگ پر جرمانہ کم کر کے پہلی مرتبہ صرف 15 ہزار، دوسری مرتبہ 30 ہزار اور تیسری مرتبہ اوور چارجنگ پر 45 ہزار جرمانہ کر دیا گیا جو کہ پہلے ڈیڑھ لاکھ روپیہ تھا۔ اس طرح تین گنا سے زائد کمی کر دی گئی۔ ایک روپے سے زائد اوور چارجنگ پر پہلی مرتبہ 50 ہزار، دوسری مرتبہ ایک لاکھ اور تیسری مرتبہ ایک لاکھ 50ہزارروپے جرمانہ کر دیا گیا جو کہ 2020 سے فروری 2024 تک پانچ لاکھ روپے تھا ۔اس طرح کم پیمانے رکھنے اور پٹرول کم ڈالنے پر جرمانوں میں بھی نمایا ں کمی کر دی گئی جس کی تفصیلات یوں ہیں۔ ایک لٹر میں 10 ملی لٹرتک پٹرول کی چوری پر صرف وارننگ ہی دی گئی۔ ایک لٹر میں 11 ملی لٹر سے 20 ملی لٹر تک پیمانہ کم رکھنے پر پہلی مرتبہ 15 ہزار، دوسری مرتبہ 30 ہزار اور تیسری مرتبہ 45 ہزار جرمانہ کر دیا گیا جو کہ 2020 سے 2024 تک کم از کم 50 ہزار روپے تھا۔ اسی طرح فی لٹر 21 سے 30 ملی لیٹر کم پیمانے پر جرمانوں میں کمی کر کے اسے بالترتیب پہلی مرتبہ 25 ہزار، دوسری مرتبہ 50 ہزار اور تیسری مرتبہ 75 ہزار کر دیا گیا اور 2020 کے فیصلے کے مطابق پہلی ہی مرتبہ پیمانے میں کمی کی اس شرح کا جرمانہ ایک لاکھ روپے تھا۔ اسی طرح غیر معیاری پٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر جرمانے کی رقم جو کہ پانچ لاکھ روپے تھی میں بھی کمی کر کے تین مرحلوں میں سہولت کاری کی گئی جو کہ پہلی مرتبہ پکڑے جانے پر ایک لاکھ، دوسری مرتبہ غیر معیاری پٹرولیم مصنوعات پکڑی جائیں تو 2 لاکھ اور تیسری مرتبہ پکڑی جائیں تو تین لاکھ جرمانے کی شرح لاگو کر دی گئی۔ اس صورتحال کے حوالے سے اوگرا کے ایک سابق آفیسر نے روزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلے کوئی محب وطن نہیں کر سکتا یہ تو سیدھی سیدھی ٹاؤٹ گیری اور سہولت کاری ہے جو آئل کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان کیلئے کی گئی ہے۔






