اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف درج چھ مختلف مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے آئندہ تاریخ 24 فروری مقرر کرتے ہوئے تمام مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا اور حکم دیا کہ عمران خان کو ذاتی حیثیت میں یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔ عدالت میں عمران خان کی جانب سے وکلا صفائی سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری پیش ہوئے، جبکہ عمران خان کی تینوں بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود رہیں۔
سماعت کے دوران سابق وفاقی وزیر شاہنواز رانجھا پر مبینہ اقدامِ قتل سمیت دیگر مقدمات زیر بحث آئے۔ وکیل صفائی سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں عدالت سے ریلیف مل چکا ہے اور ضمانتوں کو مستقل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری وکیل کی جانب سے عبوری ضمانت کے خلاف کوئی مؤثر درخواست دائر نہیں کی گئی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پہلے بھی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے پیشی ممکن نہیں تو اڈیالہ جیل میں سماعت کا بندوبست کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو طلب کیا جائے۔
سلمان صفدر نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو ان مقدمات میں سنجیدہ دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی، تفتیشی افسران عدالت میں موجود نہیں اور نہ ہی مقدمات میں باضابطہ پیش رفت نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آج ہی مناسب فیصلہ سنایا جائے۔
اس موقع پر جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ ان کی عدالت سے کس درخواست ضمانت کو خارج کیا گیا ہے، اور آئندہ سماعت پر تمام تفتیشی افسران کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت جاری کی۔
پراسیکیوشن کی جانب سے تیاری کے لیے مہلت طلب کی گئی جس پر عدالت نے 24 فروری تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے تمام مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر عمران خان کو عدالت میں یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔
واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے واقعات، اقدامِ قتل اور مبینہ جعلی رسیدوں سمیت متعدد مقدمات درج ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس میں جعلی رسیدوں سے متعلق ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔







