چوک سرور,مدرسےمیں روزہ داربچےکابدفعلی میں ناکامی پرقتل،پی ٹی آئی ایم پی اےکابھتیجاملوث،پولیس کی ٹامک ٹوئیاں

چوک سرور,مدرسےمیں روزہ داربچےکابدفعلی میں ناکامی پرقتل،پی ٹی آئی ایم پی اےکابھتیجاملوث،پولیس کی ٹامک ٹوئیاں

انیس مارچ کو13سالہ صائم کوایم پی اےاورمعروف ٹرانسپورٹررانااورنگزیب کے اوباش بھتیجےرانامعاذنےامام مسجدکےبیٹےاورساتھی فخرالملک سے ملکرحجرےمیں قتل کردیاتھا

رانامعاذنےمنہ میں گولی ماری،ساتھی ٹھڈےمارتارہا،رانااورنگزیب نے تفتیش کارخ بدلنےکیلئے بھتیجےکوفوری ملتان بھیج دیا،فخرالملک نےحقیقت اگل دی،پولیس کی سازباز،بیان بدلنےکی کوشش

ملتان ( سٹاف رپورٹر) چار روز گزرنے کے باوجود مظفر گڑھ پولیس چوک سرور شہید کے دینی مدرسے میں عصر کے وقت قتل ہونیوالے 13سالہ روزہ دار بچے محمد صائم کے قتل کی گتھیاں نہ سلجھا سکی جسے مقامی پی ٹی آئی کے ایم پی اے اور معروف ٹرانسپورٹر رانا اورنگزیب کے اوباش بھتیجے رانا معاذ اورنگزیب نے امام مسجد قاری یوسف کے بیٹے اور اپنی آلودہ زندگی کے شریک کا رفخرالملک کے ساتھ ملکر مدرسے کے حجرے میں اذیت ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیاتھا۔ پولیس نے سیدھے سادھے بد فعلی کی کوشش سے انکار پر قتل ہونے والے 13 سالہ خوبرو بچے محمد صائم کے قتل کو سیاسی رنگ دے رکھا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 19 مارچ کو مقامی تاجر کا بیٹا محمد صائم اپنے گھر کے قریب واقع مسجد سے ظہر کی نماز پڑھ کر نکلا تو مسجد کے امام قاری یوسف کا اوباش بیٹا جس نے شہر کے چند آوارہ لوگوں کا ایک گروہ بنا رکھا ہے اور اس گروہ کو فنانس کرنے اور تحفظ دینے کی ذمہ داری رانا معاذ کی ہوتی تھی ۔ گلی میں مسجد سے نکلتے ہوئے محمد صائم کو ورغلا کر کھیلنے کے لیےمدرسے لے گیا اور فون کرکے وہیں پر رانا معاذ کو بھی بلا لیا۔ رانا معاذ پسٹل لے کر آیا اور کمرے میں محمد صائم جو کہ کم عمری کے باوجود صحت مند تھا نے دونوں اوباشوں کی بری نیت کو بھانپ کر مزاحمت کی تو رانا معاذ نے پسٹل نکال کر دھمکانے کی کوشش کی مگر صائم کی مزاحمت پر اس کے منہ میں فائر کردیا جبکہ فخر الملک نے خون آلودہو کر زمین پر گرنے والے مقتول کے منہ پرٹھڈے مارے ایک ہی گولی چہرے پر لگنے کی وجہ سے چند ہی منٹ میں صائم دم توڑ گیا تو دونوں کمرے کی باہر سے کنڈی لگا کر بھاگ گئے۔ رانا معاذ نے تمام صورتحال سے اپنےچچا اور پی ٹی آئی کے مقامی ایم پی اے رانا اورنگزیب کو اس وقوعہ سے آگاہ کیا تو انہوں نے فوری طور پر ڈبل کیبن ڈالے میںاسے ملتان بھجوا کر وقوعہ کا وقت تبدیل کرنے کے لیے پولیس سے ساز باز کرلی۔ بچے کے ورثا بچے کو تلاش کرتے رہے اور بچے کی تشدد زدہ لاش مدرسے کے کمرے میں پڑی رہی۔ عصر کی نماز کے بعد کسی نے مدرسے میں لاش دیکھی تو شور مچادیا۔ اس وقت تک رانا معاذ ملتان پہنچ چکا تھا۔ قاتل پارٹی نے رانا معاذ کی ملتان میں موجودگی ظاہر کرنے کے لیے اسے شاپنگ کرتے ہوئے ظاہر کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی۔ دوسری طرف مقتول کے ورثا نے بھی رانا معاذ کی موبائل لوکیشن کا ریکارڈ حاصل کرلیا۔ مقامی ایم پی اے اس قتل کا سارا ملبہ قاری یوسف کے بیٹے فخر الملک پر ڈال رہا ہے اور محمد صائم کو طیش میں آکر گولی مارنے والے رانا معاذ اورنگزیب کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ اپنے غلیظ عزائم میں ناکامی کے بعد فخر الملک نے تو محمد صائم کو تھپڑ اور ٹھڈے مارے جبکہ رانا معاذ نے گولی مار دی۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم فخر الملک نے ابتدائی بیان میں یہی بات پولیس کو بتائی ہے مگر پولیس اب ڈیل کے بعد بیان تبدیل کرارہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں