تازہ ترین

چولستان یونیورسٹی: وی سی کے اہلخانہ کے خرچے بھی خزانے سے پورے، پروٹوکول افسر حصے دار

بہاولپور (کرائم سیل) جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پروفیسر بھرتی ہو کر پرو وائس چانسلر کے عہدے تک پہنچنے والے ڈاکٹر مظہر ایاز نے پروٹوکول آفیسر قیصر غفور کی ملی بھگت سےچولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (CUVAS) کو محض دو سال کے مختصر عرصے میں بدانتظامی، اقربا پروری اور مالی بے ضابطگیوں کے ذریعے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اب ان کے اور اہلِ خانہ کے ہاتھوں سرکاری وسائل ک منظم اور بے دریغ استعمال کے ناقابلِ تردید شواہد منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔روزنامہ قوم میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز کے خلاف شائع ہونے والی تحقیقی خبروں کے بعد یونیورسٹی کے باوثوق ذرائع نے لاہور میں پرو وی سی کے بیٹوں اور ان کے مہمانوں کی رہائش کے وہ سرکاری ادائیگی شدہ بل فراہم کر دیئے ہیں جو CUVAS کے کھاتے سے ادا کیے گئے۔ ان بلوں کے مطابق 25 جون 2025 سے متعدد مواقع پر سنٹر آف ایکسیلنس یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور کے ہاسٹل میں قیام کیا گیا، جس کی مکمل رسیدیں اور ادائیگی کی تفصیلات موجود ہیں اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ پروٹوکول آفیسر قیصر غفور اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرکے پرووی سی ڈاکٹر مظہر ایاز کے بیٹوں کےجعلی اور فرضی بلوں کی ادائیگی یونیورسٹی کے مخصوص اکاؤنٹس سے کرواتے ہیں اور ڈاکٹر مظہر ایاز کے بیٹوں کا پروٹوکول فرض سمجھ کر پورا کرتے ہیں جس سے خزانہ سرکار کو دیمک کی طرح چاٹا جارہا ہے خود بھی سرکاری وسائل پر پوری طرح قابض ہے۔دوسری جانب ذمہ دار شہریوں نے BVH میں پرو وی سی کے بیٹوں کی جانب سے استعمال کی گئی سرکاری گاڑیوں کی تصاویر، ویڈیوز اور سفری ثبوت بھی فراہم کر دیے ہیں۔ ان شواہد میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ CUVAS کی سرکاری گاڑی کلٹس نمبر BRJ-23 سمیت دیگر گاڑیاں ہاؤس جاب اور ذاتی امور کے لیے استعمال ہو رہی ہیںجبکہ ٹول پلازہ اور ایندھن کے اخراجات بھی یونیورسٹی کے فنڈز سے ادا کیے گئے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے طلباو طالبات یونیورسٹی میں آنے جانے کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے محروم ہیں جسکی میڈیا نشاندہی اور والدین و متاثرہ طلبا وطالبات شکایات بھی کرچکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی گاڑیاں LEJ-117 (GLI) اور Vigo LEJ-1411 غیر قانونی طور پر وائس چانسلر کے ذاتی استعمال میں رہیں جبکہ BRJ-21 اور BRJ-23 (کلٹس) وی سی کے بیٹوں شمائل ایاز اور باسل ایاز کے قبضے میں رہیں جو انہی گاڑیوں پر بہاولپور تا لاہور سفر کرتے رہے۔ ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی آڈٹ رپورٹ 2025 میں بھی کی گئی، جس میں ایندھن کے ناجائز استعمال پر ریکوری کے لیے آڈٹ پیرا تحریر کیا گیا، تاہم تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔مزید اطلاعات کے مطابق ہاؤس جاب کے دوران پرو وی سی کے بیٹے بازل ایاز کو مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے باعث جاب سے نکال دیا گیا۔ اب پرو وائس چانسلر کی مدتِ مکمل ہونے کے بعد ملتان میں ذاتی رہائش گاہ پر سامان منتقل کرنے کے لیے بھی یونیورسٹی کے سرکاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ ممکنہ احتسابی کارروائی سے بچنے کے لیے مبینہ طور پر مختلف سطحوں پر ہاتھ پاؤں مارے جا رہے ہیں۔یونیورسٹی کے اساتذہ، ملازمین، سول سوسائٹی اور ذمہ دار شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب، چیئرمین نیب، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ چولستان یونیورسٹی میں ہونے والی اس منظم کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کر کے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔گاڑی کی تصاویر اور ہاسٹل کے ادائیگی کے بل پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز کو بھیج کر ان سے موقف جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے میسج دیکھنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں