بہاولپور (کرائم سیل) چولستان یونیورسٹی میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹرمظہرایازکے غیر قانونی اور ناقابلِ یقین اقدامات کا انکشاف آڈٹ رپورٹ 2025 میں سامنے آیا ہےجس نے یونیورسٹی کے انتظامی اور مالی نظام پر شدید سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔رپورٹ کے پیرا نمبر 28 کے مطابق پرو وائس چانسلر کے پاس چار گاڑیاں ہیںجبکہ اسے قانونی طور پر صرف ایک گاڑی اور 300 لٹر پٹرول کی اجازت ہے۔ حیران کن طور پر دو گاڑیاں ان کے بیٹے کے زیر استعمال ہیں اور ایک گاڑی ا ن کی بیوی کے پاس ہےجبکہ تمام گاڑیوں کا پٹرول سرکاری خزانے سے فراہم کیا جا رہا ہے۔ آڈٹ ٹیم نے18لاکھ 71ہزار102روپے جمع کروانے کا حکم دیا تھا لیکن تاحال اس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا اور بیٹے سرکاری گاڑیوں کا سرعام استعمال کر رہے ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے پیرا نمبر 32 میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ پرو وائس چانسلر غیر قانونی طور پر وائس چانسلر کی سرکاری رہائش گاہ پر اہل و عیال کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس دوران سرکاری ملازمین اپنی خدمات انجام دینے کے پابند ہیںجبکہ رہائش اور یوٹیلٹی بلز سمیت دیگر تمام اخراجات سرکاری خزانے سے ادا ہو رہے ہیں۔ آڈٹ ٹیم نے47لاکھ 12ہزار791روپے جمع کروانے کے واضح ہدایات دی تھیں لیکن یہ ہدایات نظر انداز کی گئی ہیں اور سرکاری گھر پر غیر قانونی قبضہ برقرار ہے۔ماہرین انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی اور ناجائز اقدامات نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے کی شفافیت اور اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عوام اور سٹاف کے حلقے پرو وائس چانسلر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ یونیورسٹی کے وسائل کے ناجائز استعمال کو روکا جا سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔چولستان یونیورسٹی میں یہ بے ضابطگیاں تعلیمی ادارے کے مستقبل اور سرکاری خزانے کی حفاظت کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے بعد بھی اگر فوری اور شفاف کارروائی نہ کی گئی تو یہ غیر قانونی قبضہ اور کرپشن کا ایک طویل سلسلہ بن سکتا ہے جس کے اثرات طلبہ، عملے اور عوام پر براہِ راست پڑیں گے۔
جعلی سرٹیفکیٹ پر بھرتی ڈاکٹرمظہرایاز کے دور میں امتحانی نظام بھی مشکوک

بہاولپور (کرائم سیل)چولستان ویٹرنری یونیورسٹی، جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ پر پروفیسر بھرتی ہونے والے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز کے دور میں امتحانی نظام کی تباہی اور اقربا پروری جبکہ چولستان ویٹرنری یونیورسٹی ایک بڑے تعلیمی ادارے کے بجائے مبینہ طور پر کرپشن، بدانتظامی اور جعلسازی کا گڑھ بنتی جا رہی ہے۔ جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ پر پروفیسر بھرتی ہونے والے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز کے دورِ انتظامیہ میں یونیورسٹی کا امتحانی نظام مکمل طور پر مشکوک اور متنازع ہو چکا ہے۔ سنسنی خیز انکشافات کے مطابق فائنل امتحانات جوابی کاپیوں کے بجائے سادہ کاغذ پر لیے جا رہے ہیںجن پر نہ کوئی رول نمبر ہوتا ہے، نہ سیریل، نہ بارکوڈ اور نہ ہی ایسا کوئی ریکارڈ جو بعد ازاں جانچ یا تصدیق کے کام آ سکے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ طریقہ کار نہ صرف یونیورسٹی رولز بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قواعد کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام کو جان بوجھ کر غیر شفاف رکھا گیا تاکہ من پسند طلبا کو اعلیٰ نمبرز سے نوازنا اور نا پسند طلبا کو نظر انداز کرنا آسان ہو جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ جوابی کاپیاں چھپوانے کے لیے مختص سرکاری فنڈز مبینہ طور پر ذاتی عیاشیوں، غیر ضروری اخراجات اور مخصوص افراد کی جیبوں میں چلے گئے، جبکہ امتحان کے نام پر سادہ کاغذ کا سہارا لے کر طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ جب کسی مرحلے پر احتساب یا آڈٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو انہی سادہ کاغذات پر دوبارہ امتحان دکھا کر ریکارڈ مکمل کر لیا جاتا ہے، یوں ہر ممکن قانونی گرفت سے بچنے کی راہ نکالی جاتی ہے۔اندرونی ذرائع کے مطابق اس پورے کھیل میں غیر قانونی رجسٹرار اور بااثر افسران کا کردار بھی مشکوک ہے، جو انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اقربا پروری، پسند ناپسند اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ طلبا اور والدین شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر امتحانات ہی شفاف نہ ہوں تو ڈگری کی ساکھ اور مستقبل کا کیا بنے گا؟ تعلیمی حلقے اس صورتحال کو اعلیٰ تعلیم پر کھلا حملہ قرار دے رہے ہیں۔دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ پر الزام ہے کہ وہ اصلاحات کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور ذمہ دار عناصر مبینہ طور پر عیاشیوں میں مگن ہیں۔ سول سوسائٹی، اساتذہ تنظیموں اور طلبا کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس ہولناک سکینڈل کی فوری، شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائیں، جعلی اسناد پر تعینات افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے، امتحانی نظام کو ڈیجیٹل اور قابلِ آڈٹ بنایا جائے اور قصورواروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مثال قائم کی جائے، بصورت دیگر یہ اندھیر نگری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے تاریک کر دے گی۔







