بہاولپور (کرائم سیل)چولستان ویٹرنری یونیورسٹی بہاولپور میں جعلی دستاویزات پر سزا یافتہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز اور ان کے مبینہ ساتھیوں کی روزنامہ قوم میں کرپشن بے نقاب ہونے پر نیوٹیک/نیپٹا نے یونیورسٹی کے مزید فنڈز روک د یئے جس کے باعث ایل ای ڈی پروگرام بند ہو گیا اور غریب و مستحق طلبا و طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق عارضی کنٹرولر امتحانات خالد محمود، عارضی رجسٹرار رانا فیصل صدیق اور مشتاق گوندل (ایڈیشنل چارج) پر مشتمل مبینہ مافیا نے نیوٹیک کی جانب سے ملنے والے لاکھوں روپے طلبہ کی تعلیم و عملی تربیت پر خرچ کرنے کے بجائے جعلی بلوں کے ذریعے خود ہڑپ کر لیے۔ روزنامہ قوم کی رپورٹنگ کے بعد نیوٹیک/نیپٹا نے مزید فنڈز روک دیئے ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سیشن کے قریباً 20 لاکھ روپے یونیورسٹی خزانے میں موجود ہیں جنہیں بوگس بلوں کے ذریعے نکالنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔ادھر ڈی وی ایم پروگرام کے لیے اجازت نامہ نہ ملنے کے باعث پروگرام بند ہےاور پروائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز نے دھڑا دھڑ داخلے کرکے طلباوطالبات کا مستقبلِ داؤ پر لگا دیا ہے۔ طلبہ کا الزام ہے کہ مشتاق گوندل نے اسائنمنٹس کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے مگر عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔ طلبا و طالبات نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جعلی دستاویزات پر سزا یافتہ افسران کہیں انہیں بھی جعلی ڈگریاں جاری نہ کر دیں۔ متاثرہ طلبہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ مافیا کو فوری طور پر معطل کر کے گرفتار کیا جائے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے غریب طلبہ کا مستقبل محفوظ بنایا جائے کیونکہ جہاں ڈاکٹر مظہر ایاز اپنی اس عارضی ٹیم کے ساتھ تعلیمی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا چکے ہیں وہیں کرپٹ اور کاریگر ایکسین اور سب انجینئر کے ساتھ میل ملاپ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ چولستان یونیورسٹی میں لوٹ مار اور پرو وی سی ڈاکٹر مظہر ایاز کا عرصہ پورا ہونے کی وجہ سے پورا انتظامی ڈھانچہ ڈاواں ڈول ہے۔ بد انتظامی بڑی مثال یہ ہے کہ پی آر او کسی قسم کا موقف دینے سے گریزاںہیں اور مختلف سیٹوں پر براجمان بادشاہ مزاج عناصر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہیں جسکی وجہ سے یونیورسٹی اور طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگنے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ جب اس خبر کے سلسلے میں عارضی کنٹرولر امتحانات خالد محمود عارضی رجسٹرار رانا فیصل صدیق اور پرو وی سی ڈاکٹر مظہر ایاز سے موقف جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔







