چولستان ویٹرنری یونیورسٹی میں جنگل کا قانون وسائل ہڑپ ،لوٹ مار،قومی خزانے کا شکار

بہاولپور (بیورو رپورٹ) چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز بہاولپور بھی بدانتظامی اور بدعنوانی کی زد میں آ کر تباہی کی طرف گامزن ہو گئی ہے، کئی سال سے یہ یونیورسٹی بھی ایکٹنگ وائس چانسلر، خزانچی اور عارضی رجسٹرار پر چل رہی ہے۔ یونیورسٹی میں وسائل کے بے دریغ استعمال اور لوٹ مار جاری و ساری ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپورجو ایک عظیم تعلیمی ادارہ رہا ہے، بدقسمتی سے بدعنوانی اور بدانتظامی کی زد میں آ چکا ہے۔ اس ادارے میں مبینہ طورپر غیر قانونی بھرتیوں، بدعنوانی اور وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے برخلاف وائس چانسلر ایک سال سے زائد عرصے سے غیر قانونی طور پر ایکٹنگ چارج پر فائز ہیں۔ ان کے ساتھ مبینہ طور پر ڈاکٹر کاشف اکرم (خزانچی) اور ڈاکٹر فیصل صدیقی (رجسٹرار) بھی ایکٹنگ چارج پر ہی تعینات ہیں اور یہ افراد ادارے کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ ادارے کو پیشہ ور رجسٹرار، خزانہ دار اور کنٹرولر امتحانات کی ضرورت ہے، مگر پچھلے چھ سال سے یہ اہم عہدے خالی پڑے ہیں جو محض ذاتی فائدے کے لیے ادارے کے وسائل کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کا اثر طلبا اور سٹاف کی بنیادی سہولیات پر بھی پڑا ہے۔ پرو وائس چانسلر مظہر ایاز کی فیملی یونیورسٹی کی گاڑیوں کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے اور جو بھی اس بدعنوانی پر آواز اٹھاتا ہے، اسے جھوٹے الزامات لگا کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ چند ڈرائیوروں نے پرو وائس چانسلر کی جانب سے یونیورسٹی کی گاڑیوں کے ناجائز استعمال پر اعتراض کیا تو ایک ڈرائیور کی تنخواہ غیر قانونی طور پر بند کر دی گئی اور اس پر ناقص کارکردگی کا الزام لگا دیا گیا۔ یونیورسٹی میں بدانتظامی کی وجہ سے اس سال بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے صرف 200 طلبا نے داخلہ لیا ہےجبکہ پرو وائس چانسلر، رجسٹرار اور خزانچی 30 لاکھ روپے پبلسٹی کے نام پر خرچ کر چکے ہیں۔ عوامی وسماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور سیکرٹری لائیو سٹاک سے اپیل ہے کہ ان معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ادارے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔ غریب ملازمین کی غیر قانونی طور پر بند کی گئی تنخواہوں کو بحال کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ادارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں