بہاولپور (کرائم سیل)جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ پر پروفیسر بھرتی ہو کر چولستان وٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے والے ڈاکٹر مظہر ایاز اور غیر آئینی رجسٹرار رانا فیصل صدیق کے مبینہ گٹھ جوڑ نے یونیورسٹی کو شدید انتظامی و مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ اسی کرپٹ ٹولے نے افیسر انچارج شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر صالح اور وزٹنگ (عارضی) فیکلٹی ڈاکٹر حنظلہ کے ساتھ مل کر ایکسپو کے نام پر طلبہ سے فی طالب علم ایک ہزار روپے دھونس، دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے وصول کیے، حالانکہ مذکورہ ایکسپو مکمل طور پر بیرونی سپانسرشپ پر منعقد ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق بزنس سمیت مختلف شعبہ جات کے طلبہ کو رقم جمع نہ کروانے کی صورت میں فیل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، پہلے کلاس ریپریزنٹیٹوز اور بعد ازاں اساتذہ کے ذریعے نقد رقم اکٹھی کی گئی، جس سے اندازاً سات سے آٹھ لاکھ روپے جمع ہوئے، تاہم اس وصولی کا کوئی سرکاری ریکارڈ یا یونیورسٹی اکاؤنٹس میں اندراج موجود نہیں اور مبینہ طور پر یہ رقم پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار کے ساتھ آپس میں تقسیم کرلی، جس پر طلبہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انہوں نے سول سوسائٹی کے ہمراہ اعلیٰ حکام، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور گورنر پنجاب سے فوری، شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے،یاد رہے کہ ڈاکٹر مظہر ایاز نے اپنے مبینہ کرپٹ ٹولے کے ساتھ مل کر چولستان ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی کو شدید انتظامی و مالی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق ایکس ای این وقاص اور سب انجینئر سجاد بھٹی ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر اسی گٹھ جوڑ کے ساتھ کرپشن میں ملوث اور بدنام ہیں، جبکہ گزشتہ کئی سمیسٹرز سے امتحانی نظام میں بھی سنگین بے ضابطگیاں جاری ہیں اور سادہ کاغذات پر امتحانی پرچے لے کر مخصوص طلبہ کو نوازنے کی کوششوں میں رجسٹرار کا مبینہ عمل دخل سامنے آیا ہے، اور پرو وی سی کی فیملی کی عیاشیوں پر یونیورسٹی کے کھاتے سے ادائیگیوں میں پروٹوکول آفیسر قیصر غفور ملوث ہیں ۔ مؤقف کے لیے رابطہ کرنے پر فیکلٹی ہیڈ ڈاکٹر صالح نے دعویٰ کیا کہ فی طالب علم 500 روپے وصول کیے گئے اور سپانسرشپ جزوی تھی، رقم اکٹھی کرنے کا ریکارڈ موجود ہے، تاہم ریکارڈ طلب کرنے کے باوجود فراہم نہیں کیا گیا۔







