چولستان قبضہ سکینڈلآرپی اوبہاول پور ملوث نکلے،ہتھ ہولاکے حکم پرپولیس کارولا،منصوبہ دھرارہ گیا

چولستان قبضہ سکینڈل:آرپی اوبہاول پور ملوث نکلے،ہتھ ہولاکے حکم پرپولیس کارولا،منصوبہ دھرارہ گیا

ملتان( قوم ریسرچ سیل) چولستان میں چراگاہ کی دو بیورو کریٹس کی طرف سے کارپوریٹ فارمنگ کیلئے خرید کردہ300 مربع اراضی پر قبضے کے سب سے بڑے سکینڈل میں بہاولپور میں ان دنوں تعینات ریجنل پولیس آفیسر رائے بابر سعید کی مبینہ آشیر باد کا بھی انکشاف ہوا ہے اور بہاولپور پولیس کے ذمہ دارانہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جب رانا اجمل نامی پٹواری کے فرنٹ مین سرفراز سولنگی نے ان 300 مربع اراضی میں سے سارے کاغذات بنوانے اور ڈیل فائنل کرنے کے عوض جو 40 مربع زرعی اراضی سرفراز سولنگی کے نام پر لی اس پر قبضہ کی کوششوں میں آر پی او بہاولپور رائےبابر سعید کی مبینہ شیر آباد حاصل تھی اور انہوں نے ہی 15 کی کال پر موقع پر پہنچ جانے والی پولیس کو کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا تھا ۔ تھانہ ڈیراورکے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو آر پی او ہی کی جانب سے حکم دیا گیا تھا کہ ہر حال میں عظمت نیازی کو Look after کیا جائے مگر آرپی او کے واضح احکامات کے باوجود ایس ایچ او ڈیراور اور ڈی ایس پی یزمان نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر یہ معاملہ تحریر میں لانا اس لئے ضروری سمجھا کہ کل کلاں اگر کوئی جانی نقصان ہو گیا تو آئی جی پنجاب کے واضح احکامت پر انہی کیخلاف کارروائی ہوگی اور Look after کا حکم دینے والے افسران کسی بھی قسم کی ذمہ داری نہیں لیں گے لہٰذا ان دونوں یعنی ایس ایچ او تھانہ ڈیراوراور ڈی ایس پی سرکل لال محمد کھوکھر نے اپنی رپورٹ عظمت نیازی کیخلاف لکھ دی جس پر شدید غصے میں ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور کی طرف سے ڈی ایس پی لال محمد کھوکھر کی سالانہ کانفیڈینشل رپورٹ (ACR) کو خراب کردیا گیا۔ دوسری طرف عظمت نیازی پر مہربانی کرتے ہوئے اس سے دوبارہ درخواست نئے مضمون کے ساتھ لکھوا لی گئی جس پر از سر نو کارروائی شروع کردی گئی۔ بہاولپور پولیس کے ایک سابق سورس نے دعویٰ کیا کہ یہ 40 مربع جوکہ رانا اجمل پٹواری کی ملکیت ہے اور جو سرفراز سولنگی کے نام پر لکھے گئے ہیں ’’ ایمانداری‘‘ سے برابر تقسیم ہونے کا کوئی معاہدہ بھی ہوا ہے ۔ رانا اجمل پٹواری نے جب ساری زمین ہاتھ سے جاتی دیکھی تو انہوں نے فوری طور پر مقامی حلقے قومی اسمبلی کے رکن مخدوم سمیع الحسن گیلانی کو پیشکش کی کہ وہ اس 40 مربع اراضی کے نصف حصے کو عوام کیلئے سکول، ہسپتال و بے گھر اور بے زمین ووٹرز کی آباد کاری کیلئے وقف کرنے تو تیار ہیں جس پر حلقہ کے ووٹروں سے اپنے رکن قومی اسمبلی پر دبائو ڈالا کہ اس پیشکش کو قبول کرنے سے بہت سے ووٹروں اور غریبوں کا بھلا ہوگا جس پر مخدوم سمیع الحسن گیلانی تمام تر ریکارڈ لے کر ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور سے ملے اور انہیں تمام حقائق سے آگاہ کیا مگر وہاں داد رسی کی امید تلخی میں بدل گئی جس پر مخدوم سمیع الحسن گیلانی اس معاملے کو قومی اسمبلی کے فورم پر لے گئے ۔ دوسری طرف جب حقائق زبان زد عام ہوئے تو یہ معاملہ ایس پی انویسٹی گیشن غلام مشہدی کے پاس آیا تو انہوں نے بھی ڈی ایس پی سرکل لال محمد کھوکھر کی رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی تصدیق کرکے افسران کو بھجوا دی جس پر عظمت نیازی سے ان تمام حقائق کو چھپاتے ہوئے ایک اور درخواست ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان کے دفتر میں جمع کرادی۔ دوسری طرف ان مختلف درخواستوں میں سے دو درخواستیں جب قانونی مشاورت کیلئے حاکم نول نامی ایس پی لیگل کو مارک ہوئی تو معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وہ از خود موقع پر ملاحظہ کیلئے گئے اور انہوں نے دونوں فریقین یعنی عظمت نیازی اور سرفراز سولنگی کی طرف سے فراہم کردہ ریکارڈ چیک کیا تو بلاک نمبر18، بلاک نمبر38 اور بلاک نمبر58 سرفراز سولنگی کی ملکیت میں درست پائے گئے جس پر ایس پی لیگل نے بھی اپنی رپورٹ میں سرفراز سولنگی کو حق دار اور عظمت نیازی کو جھوٹا قرار دیا تو دو طاقت ور ترین سفارشوں کے باوجود اعلیٰ افسران بے بس ہوگئے اور پھر آر پی او بہاولپور رائے بابر سعید کو آخر کار عظمت نیازی وغیرہ کےخلاف مقدمہ درج کرانا پڑا۔ ادھر جب رانا اجمل پٹواری کے فرنٹ مین سرفراز سولنگی کا مقدمہ درج ہوا تو سہیل خان کی مداخلت سے فوری طور پر کرنل (ر) خبیب کا بھی مقدمہ میرٹ کے مطابق عظمت نیازی کے خلاف درج ہوگیا اس طرح تمام تر سہولت کاری کی منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں