پنجاب کی انتظامی تاریخ کی زرعی اراضی پر سب سے بڑے قبضے کی قسط وار کہانی
ملتان (قوم ریسرچ سیل)ضلع بہاولپور سے رکن قومی اسمبلی مخدوم سمیع الحسن گیلانی اور ریجنل پولیس آفیسررائےبابرسعید کے مابین تلخی سے شروع ہوکر تحریک استحقاق تک پہنچ جانے والی اختیاراتی اور قانونی جنگ کی اندرونی کہانی کھل کر سامنےآگئی ہے اور بظاہر عام سی دکھا ئی دینے والی اس لڑائی کے پیچھے جنوبی پنجاب میں کسی پرائیویٹ شخص کی طرف سے 7500 ایکڑ اراضی پر قبضہ کا سب سے بڑ ا قبضہ سکینڈل ہے جس میں عظمت نیازی نامی ایک منشی اور نچلے درجے کے ٹھیکیدار نے اعلیٰ افسران کی مبینہ سرپرستی سے تقریباً 10 سے12 ارب روپے کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور اُسے پولیس و دیگر متعلقین کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ لاہور میں طارق گارڈن کے نام سے ایک انتہائی صاف ستھری ہائوسنگ سو سائٹی کے بہت اچھی کاروباری پارٹی کے مالکان میں سے کرنل (ر)خبیب نامی ایک آفیسر نے ایک بیورو کریٹ جس کا نام جاوید مجید تھا اور یہ دونوں ریٹائرڈ ہو چکے ہیں نے باہمی اشتراک سے امریکا میں مقیم ایک مشترکہ دوست کی بڑی انویسٹمنٹ کے ساتھ چولستان میں جدید فارمنگ اورآسٹریلین طر ز کی لائیو سٹاک متعارف کر اکر پاکستانی میٹ اینڈلائیو سنٹر کے فروغ کیلئے نواب زدگان بہاولپور کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک نوابزادی سے 7500 ایکڑ اراضی جو کہ 300 مربع بنتی ہے اور چولستانی بلاک سسٹم کے مطابق یہ تقریباً 19 بلاک سے زائد اراضی بنتی ہے کا ایک بلاک تقریباً 16 مربع پر مشتمل ہوتا ہے۔ کرنل خبیب اور جاوید مجید کے علاوہ ان کے غیر ملکی انویسڑز نے نواب زادی کو چراگاہ کی اس اراضی کی خریداری کے عوض زیادہ تر رقم کی ادائیگی بذریعہ چیک کی اور خریداری کا اسٹامپ عظمت نیازی نامی معمولی ٹھیکیدار اور مقامی افسران کے سہولت کار کے نام لکھوا کر اس سےاپنے نام پر تحریریں ان دونوں خریداروں جن میں جاوید مجیداور کرنل (ر) خبیب کے علاوہ امریکی تارک وطن بھی شامل تھا حاصل کر کے خودکو محفوظ کر لیا۔ چراگاہ کی اس 7500 ایکڑ زمین کی نواب زادی سے خریداری کی جاتی رہی اور نگرانی عظمت نیازی کو دے دی گئی ۔ یہ ڈیل بہاولپور میں تعینات ایک پٹواری محمد اجمل کے ذریعے ہوئی اور اجمل پٹواری ہی نواب زادی سے رابطے میں تھا اور پراپرٹی کے حوالے سے نواب خاندان کے مشیروں میں شامل تھا۔ اجمل پٹواری نے اس ڈیل کے عوض 15 فیصد رقم طے کی مگر بعد میںرقم دینے کی بجائے اُسے کمیشن اور تمام تر سہولت کاری کے عوض 40 مربع اراضی جو
کہ چولستانی سسٹم کے لحاظ سے اڑھائی بلاک یا پھر ایک ہزار ایکڑ بنتی ہے اجمل پٹواری کو دینا طے ہوا ۔ اب اجمل پٹواری بھی سرکاری ملازمت میں تھا اس لئے اس نے بھی سرفراز سولنگی نامی فرنٹ مین ڈھونڈ کر اس کے نام پر 40 مربع اراضی لکھوا کر اس سے اسٹامپ حاصل کر کے خود کو اسی طرح محفوظ کر لیا جس طرح کرنل خبیب اور جاوید مجید نے خود کو محفوظ کیاتھا۔ 2017/18 میں کرنل (ر) خبیب اور جاوید مجید نے بعد از ریٹائرمنٹ عظمت نیازی سے معاہدہ کے مطابق زمین چھوڑنے کا کہا تاکہ وہاں پر جدید لائیو سٹاک فارمنگ اور ایگری کلچر کی جاسکے مگر ان سالوں میں ماضی کا معمولی ٹائوٹ ٹھیکیدار اس اراضی سے اتنا پیسہ کما چکا تھا اور اس کی پولیس کے نچلے درجے سے لے کر اعلیٰ افسران تک اتنی دوستیاں بن چکی تھیں کہ اس نے اراضی چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا بلکہ الٹا زمین کے مالکان جاوید مجید ، کرنل خبیب اور امریکی شہری کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا ۔ اس دوران عظمت نیازی نے ایک اہم پولیس آفیسرکولالچ دیکراپنےساتھ شامل کرلیااورمذکورہ اعلیٰ پولیس آفیسرنے جاوید مجید ، کرنل خبیب سے تعلق اور روابط کے باوجود آنکھیں پھیر لیں۔پولیس کی مدد نہ ملنے پر جاوید مجید اور کرنل خبیب نے مذاکرات کا سہارا لیا اور چند پولیس آفیسر بھی میرٹ کے مطابق فیصلہ کرانے اور فیصلے پرعملدرآمد کرانےکے بجائے عظمت نیازی کے سپورٹر بن گئے جس پر بے بس ہو کر سابق سیکرٹری انہار اور سابق چیف سیکرٹری آزاد کشمیر جاویدمجید اور کرنل (ر) خبیب جو کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کےفرسٹ کزن سہیل خان کے برادرنسبتی تھے۔ دونوں نے امریکی پارٹنر کی مشاورت سے 300مربع اراضی میں سے 50 مربع اراضی عظمت نیازی کے نام ٹرانسفر کرنے کی صورت میں باقی 210مربع اراضی جاوید مجید پارٹی کو واپس دے دی جائے گی جس پر جاوید مجید پارٹی نے ایک پولیس آفیسر پر اعتماد کر تےہوئے 50 مربع اراضی عظمت نیازی کو دے دی جس میں سے بعد ازاں ایک معقول حصہ مذکورہ پولیس آفیسر کے فرنٹ مین کو مل گیا۔ 40 مربع اراضی پہلے ہی محمد اجمل پٹواری اپنے فرنٹ مین سرفراز سولنگی کے نام پر لے چکا تھا اور باقی 210 مربع اراضی کا قبضہ عظمت نیازی نے واپس کرنا تھا مگر وہ وعدے سے مکرکر بے ایمان ہو گیا اور اس نے 210 مربع اراضی بھی دینے سے انکار کر دیا جبکہ مذکورہ پولیس آفیسر نے اپنا تبادلہ کرا کر خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا۔ اس دوران عظمت نیازی کی ایک اور پولیس
آفیسر سے ڈیل ہو گئی اور اس نے اجمل پٹواری کے فرنٹ مین سرفراز سولنگی سے بھی 40 مربع اراضی پولیس کی معاونت سے چھیننے کی سال 2023 میں بھر پور کوشش کی جس کی 15 پر فوری اطلاع سرفراز سولنگی کی طرف سے پولیس کو دی گئی ۔ پولیس موقع پر آئی مگر اعلیٰ آفیسر کے حکم پر بغیر کارروائی واپس چلی گئی اور 15 کی کال کا 15 پیسے بھی مول نہ پڑا۔







