چولستان:جعلی مالک اصل بن بیٹھا،سابق چیف سیکرٹری، عمران خان کےرشتہ داراورامریکی شہری سےہاتھ

چولستان؛20مربع اراضی کا لالچ ،تحقیقات کرنیوالے زیرعتاب،ٹھیکیدارعظمت نیازی کا قبضہ مافیا بے نقاب

ملتان(قوم ریسرچ سیل) چولستان میں شکار گاہ کی 300 مربع اراضی میں صرف 20 مربع اراضی اور وہ بھی ناجائز مگر اس کے لالچ نے با اختیاروں کے اختیارات کو میرٹ پر تفتیش کرنے اور حقائق تحریر میں لانے والے ماتحتوں کی زندگی اور ملازمت پر عذاب نازل کر رکھا ہے۔ کوئی ماتحت آفیسر تنزلی کا شکار ہو چکا ہے تو کسی کی اے سی آر خراب کر دی گئی ہے۔ کوئی نوکری سے برخاست ہے اور کوئی کھڈے لائن۔ کو ئی انکوائری بھگت رہا ہے اور کوئی تحریک استحقاق کا سامنا کر رہا ہے مگر یہ 20 مربع اراضی کا لالچ جو دیا تو صرف ایک سابق اعلیٰ افسر کو گیا تھا اور جسے حاصل کرنے کے چکر میں مذکورہ آفیسر کو بھی کچھ نہ ملا اور بعد والے بھی امید رکھ کر قواعد و ضوابط کے پرخچے اڑا رہے ہیں اور میرٹ پر تفتیش کرنے والے زیر عذاب آتے جا رہے ہیں ۔ عظمت اللہ نیازی نامی معمولی ٹھیکیدار اور قبضہ مافیا کا سرغنہ 210 مربع اراضی کی کمائی کئی سالوں سے خود کھا رہا ہےاور افسران اس کے ناجائز قبضے میں سے محض 10 فیصد ناجائز ہی کو اپنے لئے جائز قرار دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ آج سے 20 سال قبل جب چراگاہ کی اراضی کسی کو ملنے کا دور دور تک امکان نہ تھا اور نواب زدگان سخت کنگی کی زندگی گزار رہے تھے کہ ابھی وراثت طے نہ ہوئی تھی تو نواب زدگان ایک ہزار سے 3 ہزار روپیہ ایکڑ لے کر اسٹامپ لکھ کر اس اراضی کی بندر بانٹ کر رہے تھے۔ انہی دنوں کرنل ر خبیب اور جاوید مجید نامی دو بااثر افسران نے 2 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے ڈیڑھ کروڑ روپے دیئے کہ جس میں بھی زیادہ رقم ایک امریکی شہری کی تھی ۔ شہزادی زہرہ عباسی سے ڈیڑھ کروڑ میں سودا کرکے 300 مربع زمین اسٹامپ پیپرز پر خرید کر اپنے فرنٹ مین عظمت نیازی ساکن غوثیہ کالونی رحیم یار خان کو نگرانی دے کر اپنا منشی بنا لیا اور اسٹامپ بھی اس کے نام کرا ئے گئے جبکہ رقوم کرنل (ر) خبیب اور جاوید مجید کی طرف سے مختلف مراحل میں ادا کی جاتی رہی۔ کرنل خبیب نے 65 لاکھ براہ راست شہزادی زہرہ عباسی کو ٹرانسفر کئے اور دس لاکھ بذریعہ عظمت اللہ نیازی بھجوائے۔ 5 لاکھ روپے الائیڈ بینک کے ذریعے 23 دسمبر 2003 کو شہزادی زہرہ عباسی کے بیٹے زبیر عباسی کو ٹرانسفر کئے گئے جبکہ دس لاکھ روپے پے آرڈر نمبر 01271710/0025/0024 بذریعہ عسکری بینک بہاولپور 11 فروری 2004 کو عظمت نیازی کو ٹرانفسر کئے گئے، جو عظمت نیازی نے شہزادی زہرہ عباسی کو ٹرانسفر کئے اس کے بعد 20 لاکھ روپے پےآرڈر نمبر 0127/1711/0025/0025 بذریعہ عسکری بنک 2004 میں زبیر عباسی پسر زہرہ عباسی کو ٹرانسفر ہوئے۔ 35 لاکھ روپے ڈیمانڈ ڈرافٹ نمبر DDF323368 مورخہ 30 مارچ 2004 کو الائیڈ بینک کے ذریعے شہزادی زہرہ عباسی کو ٹرانسفر ہوئے، اسی طرح 75 لاکھ کرنل (ر) خبیب نے شہزادی زہرہ عباسی کو دے کر اپنے حصے کے 150 مربع اراضی کی مد میں ادائیگی مکمل کر دی۔ اس میں کسی بھی جگہ عظمت نیازی کی طرف سے ایک روپیہ کی ادائیگی بھی ظاہر نہیں ہو رہی مگر اسے نگرانی کا اسٹامپ لکھ دیا گیا جس کی تصدیق اپنے بیان میں شہزادی زہرہ عباسی اور زبیر عباسی نے بھی کر دی ہے۔ دوسری طرف عظمت نیازی ایسا کوئی بھی ریکارڈ پیش نہ کر سکا کہ اس کے پاس رقم کہاں سے آئی اور اس نے کس طرح شہزادی کو دی اور نہ ہی عظمت نیازی مختلف تفتیشوں کے دوران کوئی بینک ریکارڈ پیش کر سکا۔ عظمت نیازی نے جب دیکھا کہ تمام انکوائری رپورٹیں اس کے خلاف ہیں اور 2011 میں بھی ایس ایس پی مجاہد اکبر خان نے عظمت اللہ نیازی کو قبضہ مافیا قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس نے مقبوضہ اراضی پر مورچے بنا رکھے ہیں جہاں غنڈہ عناصر مورچہ زن ہو کر کرنل خبیب کے ملازمین پر فائرنگ کرتے ہیں تو قبضہ ختم کرنے اور اراضی واپس کرنے کی بجائے عظمت نیازی نے ایک سابق ریجنل پولیس آفیسر کے قریبی دوست سے 8 سال قبل 20 مربع گفٹ کرنے کی ڈیل کر لی اور پھر پولیس کی سرپرستی بتدریج عظمت نیازی کو حاصل ہوتی رہی حتہ کہ افسران کے تبادلے کے ساتھ ساتھ عظمت نیازی کی سرپرستی بھی تبدیل ہوتی رہی اور جس پولیس آفیسر نے بھی میرٹ پر تفتیش کی وہ زیرعتاب ہوا۔ 20 مربع اراضی کی پیشکش ہر آنے والے آفیسر کے نام زبانی کلامی ہی ٹرانسفر ہوتی رہی اور اعلیٰ افسران ایسی غیر قانونی اراضی جسے وہ زندگی بھر براہ راست اپنے یا پھر کسی بھی اپنے کی ملکیت ثابت نہیں کر سکتے تھے، محض لالچ کے سراب میں عظمت نیازی کی سہولت کاری کرتے آ رہے ہیں حتہ کہ موجودہ آر پی او میرٹ کی بجائے اپنے پیٹی بند افسران کو تحفظ دینے میں تحریک استحقاق بھگت رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں