ملتان (سٹاف رپورٹر) کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں کی طرف سے کرپشن کی سینکڑوں شکایات کے بعد سب رجسٹرار سٹی آفس پر چھاپے مارے جانے اور مافیا کے خلاف کارروائی کیے جانے کے علاوہ درجنوں افراد کی گرفتاریاں بھی کرپشن میں ملوث انتظامی افسران اور نجی مافیا کو نتھ نہ ڈال سکیں جبکہ ٹیکس فراڈ کا دھندہ آج بھی اسی طرح جاری ہے اور رشوت کا بازار بھی مکمل طور پر بند نہیں ہو سکا۔ روزنامہ قوم کو سب رجسٹرار عاصم مشتاق ولد مشتاق احمد انجم کی طرف سے پاس شدہ ایک رجسٹری کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جو کہ دو حصوں میں 30 دسمبر 2025 ء اور 5 جنوری 2026ء کو منظور کی گئی۔ یہ رجسٹری جو کہ 6 مرلہ کمرشل اراضی پر مشتمل ہے، کی مالیت 23 لاکھ 50 ہزار ظاہر کی گئی ہے اس کا رجسٹری نمبر111220260002436 ہے جس کا اندراج 31 جنوری 2026ء کو ہو رہا ہے اور فیصلہ 20 فروری 2026ء کا ہے اس رجسٹری کے فروخت کنندہ/بائع ممتاز احمد ولد محمد بخش قوم جھکڑ ہیں جن کا شناختی کارڈ نمبر 36302-10-7ہے جبکہ اس کی خریدار شہناز شفیق زوجہ محمد شفیق قوم آرائیں ہے۔ اس کی ٹیکس فیس دو حصوں میں ادا کی گئی ہے جو کہ اندراج نمبر 236، سی کے عوض ایک لاکھ پچپن ہزار آٹھ سو جمع کرائے گئے یہ رقم 30 دسمبر 2025ء بذریعہ آن لائن جمع کرائی گئی۔ اس کاCPR-IT20251230-0101-1965588 رجسٹری ریکارڈ پر درج کیا گیا ہے۔ روزنامہ قوم نے جب اس سی پی آر کی تفصیلات نکلوائیں تو معلوم ہوا کہ یہ رقم کسی جلیل الرحمان نے آر ٹی او پشاور کو جمع کروائی اور یہ رقم تحصیل بنوں کی رجسٹری کے تحت جمع ہوئی اور اس پراپرٹی کی ٹیکس رقم ایک لاکھ پچپن ہزار آٹھ سو پچیس روپےجبکہ سب رجسٹرار ملتان کے ریکارڈ کے مطابق یہ رقم ملتان کی مذکورہ پراپرٹی کے کھاتے میں جمع شدہ ظاہر کی گئی جبکہ حقیقت میں یہ کے پی کے کے ضلع بنوں میں جمع ہوئی ہے اور وہاں سے ملتی جلتی رقم کا پرنٹ اٹھا کر ملتان کے کھاتے میں ڈال کر یہ پیسے ہڑپ کر لیے گئے۔ اسی رجسٹری کا دوسرا حصہ جو کہ سب رجسٹرار عاصم مشتاق ہی کا پاس شدہ ہے، بھی اسی طرح سے ہے جس کا فیس ٹیکس نمبر 236 کے بھی شہناز شفیق زوجہ محمد شفیق قوم آرائیں شناختی کارڈ نمبر36303-89***کی خرید شدہ چھ مرلہ رقبہ کے متعلقہ ہے اور اس میں 74 ہزار 225 روپے ٹیکس جمع شدہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ یہاں بھی سب رجسٹرار آفس میں دھوکہ دہی سے آر ٹی او اسلام آباد کے کھاتے میں جمع شدہ 74 ہزار 250 روپے کی رسید اٹھا کر یہاں جمع شدہ ظاہر کردی گئی اور یہ پیسے بھی اہلکاروں اور افسران کی بندر بانٹ کی نذر ہو گئے ہیں۔ رجسٹری ریکارڈ کے مطابق یہ 74 ہزار 250 روپے کی رقم 5 جنوری 2026ء کو بذریعہ آن لائن چالان نمبرIT2026010501011086137 کے تحت سرکاری ریکارڈ میں جمع شدہ دکھائی گئی ہے اور روزنامہ قوم کو ملنے والی مصدقہ معلومات کے مطابق یہ رقم تصور حسین ساکن گاؤں چلسیاں ڈاک خانہ ماجو خان یونین کونسل نمل ضلع ایبٹ آباد جو کہ ٹیکس دھندہ کی طرف سے سب رجسٹرار رولر اسلام آباد کے کھاتے میں جمع کرائی گئی ہے۔ یہ تو محض ایک رجسٹری کا فراڈ سامنے آیا ہے۔ اس قسم کی سینکڑوں رجسٹریاں پنجاب کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہیں اور پنجاب کی اعلیٰ ترین بیورکریسی تمام تر وسائل اور اس صورت حال سے آگاہی کے باوجود منظم انداز میں روک تھام کی کارروائی نہیں کر پا رہی۔







