پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں؛ ایوان کا بائیکاٹ یا تحریک، فیصلہ جلد ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کو دی جانے والی سزاؤں کے بعد ایوان سے بائیکاٹ یا احتجاجی تحریک شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، حتمی فیصلہ جلد پارٹی قیادت کرے گی۔
پارٹی رہنماؤں اسد قیصر، جنید اکبر، علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج کا دن جمہوریت کے لیے سیاہ دن ہے، ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا، لیڈر کو قید کیا گیا اور عدالتی دروازے ہم پر بند کر دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بارہا جمہوری عمل کو بچانے کی کوشش کی، لیکن پی ٹی آئی کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک جاری ہے۔ 6 ایم این ایز، 3 ایم پی ایز، ایک سینیٹر، قومی اسمبلی و سینیٹ کے اپوزیشن لیڈرز سمیت کئی رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئیں۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا اور زرتاج گل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ نظام کے استحکام کی بات کی، ایوان میں بیٹھے، احتجاجی سیاست سے گریز کیا، لیکن ہمارے ساتھ رویہ مسلسل سخت ہوتا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس سے انصاف کا مطالبہ کیا، مگر 2023 کی درخواستیں آج بھی زیر التوا ہیں، جب کہ کچھ ٹرائلز رات 2 بجے تک مکمل کیے جا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک متنازعہ اور مدت پوری کرچکا کمیشن منتخب نمائندوں کو نااہل کر رہا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو سسٹم سے باہر نکالا جا رہا ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ ایسا کرنے والے کون ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عدم استحکام یا تصادم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ عمران خان کے سامنے یہ معاملہ رکھا جائے کہ ہمیں ایوان کا بائیکاٹ کرنا ہے یا کوئی عوامی تحریک شروع کرنی ہے۔ اس پر فیصلہ جلد کیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں