پی سی بی نے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کرنے والے ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے سخت سزاؤں کا نظام متعارف کرادیا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ہدایات کے مطابق گلوبل اینٹی کرپشن کوڈ اپنانے کے بعد پاکستان میں بھی سخت قوانین نافذ کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ میں کرپشن، میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ پر پانچ سال سے تاحیات پابندی ہوگی جبکہ کرکٹ پر شرط لگانے یا ٹیم کی اندرونی معلومات افشاء کرنے پر ایک سے پانچ سال تک پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ مشکوک رابطے یا تحفہ نہ بتانے پر بھی کھلاڑی قصوروار قرار پائیں گے۔
سزائیں جرم کی نوعیت، ارادے، سابقہ ریکارڈ اور تعاون کو مدنظر رکھ کر دی جائیں گی۔ پہلی بار جرم کرنے والوں کو تحقیقات میں تعاون پر کم سزا دی جائے گی جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں پر کھیل کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتے ہیں۔ تحقیقات کے دوران جھوٹ بولنے یا ثبوت مٹانے پر دو سے پانچ سال کی پابندی ہوگی۔ اینٹی کرپشن ایجوکیشن پروگرام میں حصہ نہ لینے والے کھلاڑی بھی پابندی کے تحت رہیں گے۔
پی سی بی کے ذرائع نے کہا کہ کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور تمام کھلاڑیوں کو اینٹی کرپشن قوانین کے تحت تعلیم دی جاتی رہے گی۔
