پی ایچ اے ملتان غیر قانونی ترقی کیس ،سپیشل سیکرٹری سے انکوائری ڈائریکٹر پھاٹا کو منتقل

ملتان (عامر حسینی)پی ایچ اے ملتان غیر قانونی ترقی کیس ، پھاٹا کے ڈائریکٹر کو انکوائری افسر مقرر کردیا گیا ، سپیشل سیکرٹری ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ شاکر بزدار کو ہٹا دیا گیا۔ ایک اہم پیشرفت کے تحت پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (پھاٹا) جنوبی پنجاب کے ڈائریکٹر کو پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) ملتان کے غیر قانونی ترقی کیس میں نیا انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل انکوائری افسرشاکر بزدار سپیشل سیکرٹری ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای) جنوبی پنجاب کو انکوائری جاری رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ کیپٹن (ر) اسداللہ خان، سیکرٹری ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای پنجاب نے ملتان ڈ ویلپمنٹ اتھارٹی (ڈی جی ایم ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل رانا محمد سلیم کی درخواست پر کیا، جنہوں نے شاکر بزدار کی تقرری پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔انکوائری ان الزامات سے متعلق ہے کہ پی ایچ اے ملتان کے چھ افسران کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ترقی دے کر نئی تعیناتیاں کی گئیں۔ اس سے قبل ڈی جی ایم ڈی اے نے ایک شہری محمد علی کی شکایت پر اس معاملے کی انکوائری شروع کی تھی۔ ڈی جی کی رپورٹ نے ان ترقیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی۔بعد ازاں شاکر بزدار کو اس معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے انکوائری افسر مقرر کیا گیا، تاہم ڈی جی ایم ڈی اے نے سیکرٹری ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای پنجاب کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے جنوبی پنجاب کے پھاٹا سے نئے افسر کا تقرر کیا گیا۔ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای پنجاب نے ان تبدیلیوں کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں۔ یہ کیس انکوائری کی پیش رفت کے ساتھ مزید توجہ حاصل کر رہا ہے، جبکہ سٹیک ہولڈرز اس بات کو یقینی بنانے کے لیے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ قواعد کی پاسداری ہو اور جواب دہی ممکن ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں