تازہ ترین

پی ایچ اے ملتان: اشتہاری بورڈز کی آڑ میں منظم لوٹ مار، عملے کی بندربانٹ

ملتان(سٹاف رپورٹر)پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی(پی ایچ اے)میں کرپشن جعل سازی، پرنٹ شدہ بوگس پرچیوں کےذریعے شہریوں سے ہر ماہ کروڑوںوصول کرکے ادارے کے کھاتے میں جمع کرانے کی بجائے اپنی جیبیں بھرنے کی منظم دھوکہ دہی کے حوالے سے مزید انکشافات ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عارضی اور قائم مقام ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے چونکہ مستقل عہدہ نہیں رکھتے اور گزشتہ ایک سال سے ان کی تعیناتی پی ایچ اے کے قوانین کے برعکس ہونے کی وجہ سے وہ ایک کمزور انتظامی آفیسر ہیں جو پی ایچ اے کے کاریگر عملے کے ہاتھوں بے بس کر دیئے گئے ہیں۔ روزنامہ قوم نے ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک سروے کمپنی کے ذریعے جو ابتدائی معلومات لی ہیں ان کے مطابق پی ایچ اے کے ریکارڈ پر ظاہر کیے گئے اشتہاری بورڈز اور شہر کے مختلف علاقوں میں نصب اشتہاری بورڈز/ ہورڈنگز کی تعداد میں درجنوں کا فرق ہے اور مذکورہ سروے ٹیم نے ابھی تک صرف شہر کی دس سڑکوں پر موجود اشتہاری بورڈز کی گنتی کی ہے جس کے بعد ایک مصدقہ ذریعے سے پی ایچ اے کا ریکارڈ حاصل کرکے جب اس سے موازنہ کیا گیا تو 21 بورڈ ایسے سامنے آ چکے ہیں جو کہ پی ایچ اے کے ریکارڈ پر نہیںہیں مگر یہ نہ صرف سروے میں شامل مذکورہ سڑکوں پر نصب ہیں بلکہ ان پر مختلف کمپنیوں کے اشتہارات پر مشتمل پینا فلیکس بھی چسپاں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بورڈز کا سائز 60 فٹ× 20 فٹ ہے اور پی ایچ اے کے نرخوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو 32 روپے فی مربع فٹ کے حساب سے ایک اشتہاری بورڈ کا ایک مہینے کا کرایہ 38400 روپے بنتا ہے اور اگر ایک بورڈ کے کرائے کو 21 بورڈوں کے کرائے سے ضرب دے کر حساب کیا جائے تو یہ رقم 8 لاکھ 6 ہزار 400 روپیہ ماہانہ بنتی ہے جو سرکار کے خزانے میں جانے کے بجائے ہر ماہ عملے میں مبینہ طور پر بندر بانٹ کی نذر ہو رہی ہے۔ اسی ماہوار رقم کو اگر سالانہ کے حساب سے 12 سے ضرب دی جائے تو صرف ان 21 اشتہاری بورڈز کی سالانہ رقم 96 لاکھ 76 ہزار 800 روپے بنتی ہے یہ وہ رقم ہے جو پی ایچ اے کے اکاؤنٹ میں جانےکے بجائے پی ایچ اے کے عملے کے ذاتی مصرف کے لیے باقاعدگی سے استعمال ہو رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جو اشتہاری بورڈز اور ہو رڈنگز اس ایجنسی کے عملے نے اپنی طرف سے لگا رکھے ہیں ان کی ریکوری بھی پی ایچ اے کے ملازمین ہی کرتے ہیں اور ٹھیکیدار کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ریکوری کی ذمہ داری ٹھیکیدار کے پرائیویٹ بندے کسی بھی طور پر نہیں لے سکتے اور پی ایچ اے کا ایکٹ یہ کہتا ہے کہ یہ ریکوری پی ایچ ای کے ملازمین کے ذریعے ہو گی مگر پی ایچ اے نے خاص طور پر یہ سہولت بھی ٹھیکیداروں کو دے رکھی ہے کہ وہ اپنے پرائیویٹ ملازمین کے ذریعے ریکوری کریں جو دھڑلے سے طے شدہ فیسوں سے کئی گنا وصولیاں کر رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں