ملتان ( ایڈیٹر رپورٹنگ) پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹرمارکیٹنگ حافظ اسامہ ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں مصدقہ نااہل ، کرپٹ قرار دے دیئے گئے ہیں اور یہ تحریری طور پر بتایا گیا ہے کہ حافظ اسامہ کرپٹ ترین مافیا کا باقاعدہ حصہ دار بن چکے ہیں ان کو غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے کے باعث نوکری سے نکالا بھی جاچکا ہے مگر چند ہی ماہ میں بھاری خدمات کے عوض وہ دوبارہ پوری شان و شوکت سے اسی سیٹ پر براجمان ہوکر پہلے سے زیادہ کرپشن کررہے ہیں ۔ تفصیل کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے و سابق ڈپٹی کمشنر ملتان مدثر ریاض ملک نے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ حافظ اسامہ کو چار فروری 2019 کو ایک لیٹر نمبری پی ایس ۔ ڈی جی پی ایچ اے 166 میں کرپٹ ، نااہل اور غیر قانونی کاموں میں مافیا کا حصہ دار قرار دیکر نوکری سے نکال دیا تھا ۔ انہوں نے اپنےسرکاری لیٹر میں لکھا تھا کہ حافظ محمد اسامہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ کوآرڈینیشن پی ایچ اے ملتان اتھارٹی کی طرف سے تفویض کردہ ڈیوٹی میں شدید کوتاہی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ حکام نے انہیں شہر کے مختلف مقامات پر نصب غیر قانونی اور غیر مجاز ایل ای ڈی سکرینوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی جو انہوں نے دانستہ نہیں کی ، حافظ اسامہ کو اتھارٹی کی طرف سے تمام غیر قانونی ہورڈنگ بورڈز کے ساتھ ساتھ ایسی اشتہاری تنصیبات کو بھی خالی کروانے کی ہدایت کی گئی جو کہ بڑے پیمانے پر عوام کی زندگی کے لیے خطرناک ہیں لیکن ریکارڈ اور زمینی صورت حال کے مطابق حافظ اسامہ نہ صرف تفویض کردہ کام انجام دینے میں بری طرح ناکام رہا بلکہ اس نے اپنے ذاتی فائدے کے ساتھ ساتھ سرکاری ریونیو کو بڑھانے کے بجائے ’’اشتہاری مافیا‘‘ کے ساتھ ملکر اتھارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے حافظ محمد اسامہ کی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ رویے اور کرپشن کی وجہ سے غیر قانونی بل بورڈز/ ہورڈنگز کے بڑھنے سے سرکاری خزانے کو اضافی آمدنی کے بجائے بھاری نقصان پہنچا ہے۔ سابق ڈی جی پی ایچ اے نے لکھا کہ ان کی رائے میں حافظ محمد اسامہ کا طرز عمل اور کارکردگی اتھارٹی اور عوام کے مفاد کے منافی ہے۔ان کے مطابق حافظ محمد اسامہ اتھارٹی کے مفاد کے خلاف اشتہاری مافیا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان کی جانب سے مورخہ 02.02.2019 کو کئے گئے سروے کے مطابق 68 یونین کونسلوں میں 580 سے زائد بل بورڈز نصب پائے گئے ہیں اور ان میں سے ایک بھی بورڈ اتھارٹی سے منظور نہیں تھا ۔ روزنامہ” قوم” کی طرف سے جمع کردہ معلومات کے مطابق ان 580 بورڈ کا ماہانہ کرایہ اڑھائی سے تین کروڑ روپے بنتا ہے جس کا بڑا حصہ ڈی جی پی ایچ اے آصف رؤف لے جاتے ہیں۔ سرکاری لیٹر کے مطابق حافظ اسامہ نے جان بوجھ کر اور 06.06.2013 کو اپنے معاہدے کی شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ حافظ محمد اسامہ کا معاہدہ ختم کرکے انہیں نوکری سے برخاست کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر پی ایچ اے ایڈمن اینڈ فنانس کو ہدایت کی کہ پی ایچ اے معاہدے کی شرائط کے تحت حافظ اسامہ کو ایک ماہ کی تنخواہ ادا کرکے نوکری سے فارغ کردیا جائے اور توجہ طلب امر یہ ہے کہ حافظ اسامہ اپنی تمام تر منظم وارداتوں کے باوجود اس رپورٹ کے پانچ سال بعد بھی اپنی سیٹ پر موجود ہیں اور اس دوران کئی ڈپٹی کمشنرز ٹرانسفر ہو چکے ہیں ۔






