ملتان(لیڈی رپورٹر)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی کمزور گرفت اور پرائیویٹ شعبے میں قائم میڈیکل کالجوں کی مبینہ ملی بھگت نے ان نجی طبی کالجوں میں پڑھنے والے طلبا اور طالبات کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے تقریبا تمام میڈیکل کالج نے یہ و طیرہ بنا رکھا ہے کہ پی ایم ڈی سی کی طرف سے منظور شدہ سیٹوں سے زائد طلبااور طالبات کو داخلے دیئے جاتے ہیں اور پھر فرسٹ پروفیشنل کے امتحان میں انہیں دانستہ طور پر ان دو سال کی لاکھوں روپے فیس کا نقصان ہوتا ہے وہاں ان کی زندگی کے دو سال ضائع ہونے کے بعد ان کا کیریئر بھی ختم ہو جاتا ہے ۔پرائیویٹ میڈیکل کالجوں نے ایک اور جعل سازی شروع کر رکھی ہے۔ فرسٹ پروفیشنل کے طلبہ کا رزلٹ اس وقت تک روک دیا جاتا ہے جب تک ان سے تیسرے سال کی فیس نہیں لی جاتی ۔پی ایم ڈی سی کی طرف سے طلبا اور طالبات کی لیے جو فیسیں مقرر کی جاتی ہے پی ایم ڈی سی کی مقرر کردہ فیسیں بھی شامل ہوتی ہیں مگر تمام پرائیویٹ میڈیکل کالجز اس مد میں ایک لاکھ 85 ہزار روپے علیحدہ سے طلبہ سے وصول کر رہے ہیں جو کہ سراسر غیر قانونی ہے مگر تمام تر معلومات کے باوجود پی ایم ڈی سی ان پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی سہولت کاری کی مرتکب ہو رہی ہے۔ جنوبی پنجاب میں سب سے ابتر صورتحال لودھراں کے شاہدہ اسلام میڈیکل اینڈٹیچنگ ہسپتال کالج اور ملتان کے بختاور رمین میڈیکل کالج کی ہے متعدد طلبا اور طالبات کے والدین نے شکایت کی ہے کہ شاہدہ اسلام میڈیکل کالج ظلم ڈھا رہا ہے۔ ان سے ایڈوانس فیس لے کر واپس نہیں کی جاتی۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ انہوں نے اتنے بڑے حادثے سے بھی صبر نہیں سیکھا جو ان کے ساتھ نادرن ایریا میںپیش آیاتھا۔







