وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ میں ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو مقدمات کے فیصلے 6 ماہ سے ایک سال کے اندر کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماڈرن ڈیوائسز کو قانون شہادت کا حصہ بنانے کے لیے ترامیم شامل کی جا رہی ہیں، کیونکہ موجودہ نظام انصاف میں شدید خامیاں ہیں، جن کی وجہ سے جرم ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ صرف لابی میں وقت گزارتے ہیں اور کورم کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 میں سوشل میڈیا اور فیک نیوز سے متعلق اہم قانون سازی شامل ہے۔ ترامیم کے تحت جھوٹی خبروں پر 5 سال قید کی سزا اور جرمانے کا تعین کیا جائے گا۔
وزیر قانون نے کہا کہ ان ترامیم کا مقصد مجرموں کو سزا دینے کی شرح کو بہتر بنانا اور نظام انصاف کو عوام کے لیے مؤثر بنانا ہے۔






