پیپلز پارٹی کامیابی کی سزا ،ملتان کے ترقیاتی فنڈز بند ،لیگی اکثریتی وہاڑی ،خانیوال،لودھراں پر بارش

پیپلز پارٹی کامیابی کی سزا ،ملتان کے ترقیاتی فنڈز بند ،لیگی اکثریتی وہاڑی ،خانیوال،لودھراں پر بارش

ملتان(میاں غفارسے)کہنے کو تو پاکستان اور پنجاب میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت ہے مگر ملتان میں یہ اتحاد ڈ ویلپمنٹ کے حوالے سے شہریوں کیلئے ایک نہ ختم ہونے والا عذاب بن چکا ہے۔ ملتان شہر اور ضلع بھر کیلئےفنڈز کا نام و نشان نہیں حالانکہ یہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہے مگر اس ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کے دیگر تینوں اضلاع وہاڑی،خانیوال اورلودھراں کیلئے فنڈزکی بارش مگر ضلع ملتان کے ووٹروں کو عمومی اور ملتان شہر کے ووٹروں کو خصوصی طور پر پیپلز پارٹی کو کامیاب کرانے کی سخت سزا دی جا رہی ہے۔ ایک تقابلی جائزے کے مطابق ملتان ،ضلع خانیوال کیلئےحکومت پنجاب کی ترقیاتی سکیم Sustainable Development Goal ایس ڈی جی کے تحت ضلع خانیوال کو رواں مالی سال کیلئے تین ارب روپے کی خطیر رقم 190 ترقیاتی سکیموں کیلئے اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز خواہ وہ ہار ہی چکے ہیں کے توسط سے دی گئی ہے۔ ضلع خانیوال کے 10 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کیلئے 30 کروڑ روپے فی ممبر اسمبلی کے حساب سے 300 کروڑ یعنی تین ارب روپے کی سکیمیں منظوری کے بعد ٹینڈر کے مراحل سے بھی گزر چکی ہیں اور کام الاٹ کئے جا رہے ہیں جس کے ورک آرڈرز اگلے دو ہفتوں میں مرحلہ وار جاری کر دیئےجائیں گے۔ ضلع لودھراں کے چار مسلم لیگی اراکین اسمبلی کیلئے 30 کروڑ فی ممبر پارلیمنٹ کے حساب سے ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں جن سے 46 ترقیاتی سکیمیں مکمل کی جائیں گی اور ان تمام سکیموں کی منظوری کے بعد ٹینڈرز بھی جاری ہو چکے ہیں۔ ضلع وہاڑی سے مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کی تعداد 6 ہے اور اس ضلع میں ایک مسلم لیگی امیدوار کو بھی برابر کے فنڈز دیئے گئے ہیں۔ اس ضلع وہاڑی کےلئے ایس ڈی جی پروگرام کے تحت دو ارب 10کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری ہوئی ہے جس سے ضلع بھر کی 140 ترقیاتی سکیموں کو مکمل کیا جائے گا ۔اس تمام صورتحال کے برعکس ملتان کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور ضلع ملتان کی دو تحصیلوں اور شہر ملتان کیلئے ایک بھی ترقیاتی سکیم کی ایس ڈی جی پروگرام میں کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی اور اس طرح ملتان پنجاب کا واحد ضلع ہے جہاں ترقیاتی سکیموں کیلئےرواں مالی سال کے چھ ماہ گزرنے کے باوجود ایک روپیہ بھی ترقیاتی سکیموں کیلئے نہیں دیا گیا اور اتحادی حکومت کے باوجود ملتان کو اس حد تک نظر انداز کیا گیا ہے کہ ضلع کونسل اور بلدیہ ملتان میں کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ہونے کے باوجود ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں۔ ملتان شہر اور شجاع آباد سے پیپلز پارٹی کے7 ممبران اسمبلی بھی حیران کن طور پر اس پر چپ سادھے بیٹھے ہیں اور ان کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوششیں فنڈز کے حصول کے حوالے سے سامنے نہیں آرہی ہیں کہ ایک طرف تو ٹکٹ ہولڈرز بھی فنڈز کے حقدار قرار دیئے گئے ہیں اوراسی ڈویژن کے شہر اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ملتان میں کامیاب امیدوار بھی فنڈز سےمحروم ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں