پیٹرول بحران ، حکومتی دعوے اور عوامی بے چینی

پاکستان کی معیشت پہلے ہی مہنگائی، مالیاتی دباؤ اور توانائی بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر ملک میں پیٹرول کی قلت کی خبریں سامنے آئیں تو یہ صورتحال نہ صرف معیشت بلکہ سماجی اور انتظامی نظام کے لیے بھی تشویش کا باعث بن جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پیٹرول پمپس پر قلت کے خدشات، حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان بیانات کی جنگ اور قیمتوں کے تعین کے نئے فارمولے کی تجاویز نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ایک طرف پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں پیٹرول کی طلب اچانک بڑھ گئی ہے اور کئی پیٹرول پمپس پر قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت اورآئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یہ یقین دہانی کرا رہی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی قسم کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں۔ یہ متضاد بیانات عوام کے اندر بے چینی اور عدم اعتماد کو بڑھا رہے ہیں۔درحقیقت پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ اسی پر منحصر ہے۔ جب بھی پیٹرول کی قلت یا قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہ راست عوام کی جیب اور کاروبار پر پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹرول سے متعلق کسی بھی خبر پر عوام فوری ردعمل دیتے ہیں اور اکثر خوف کے باعث زیادہ مقدار میں خریداری شروع کر دیتے ہیں، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا موقف ہے کہ انہیں معمول کے مقابلے میں تقریباً پچاس فیصد کم سپلائی دی جا رہی ہے اور اگر صورتحال یہی رہی تو کئی پیٹرول پمپس بند ہونے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر ناجائز منافع خوری کے لیے ذخیرہ اندوزی کی کوشش کرتے ہیں اور اسی لیے سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ماضی میں کئی بار ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جن سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ حکومت کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔پیٹرول بحران کی اس بحث کا ایک اور اہم پہلو قیمتوں کے تعین کا مجوزہ نیا نظام ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت توانائی نے وزیراعظم کو تجویز دی ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین پندرہ روز کے بجائے ہر ہفتے کیا جائے تاکہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں شامل کیا جا سکے۔ یہ تجویز بظاہر معاشی منطق کے مطابق لگتی ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تیزی سے بدلتی رہتی ہیں، خصوصاً اس وقت جب دنیا میں جیوپولیٹیکل کشیدگی بڑھ رہی ہو۔
لیکن اس تجویز کے ممکنہ منفی اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر قیمتوں میں ہر ہفتے ردوبدل ہونے لگے تو اس سے عوام اور کاروباری طبقے کے لیے مالی منصوبہ بندی مزید مشکل ہو جائے گی۔ پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے اور پیٹرول کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی عوام کے لیے ایک نئی پریشانی بن سکتی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکس اور لیوی بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ حکومت کے لیے یہ ٹیکس آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں، لیکن دوسری طرف یہی ٹیکس عوام کے لیے مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔ موٹر سائیکل استعمال کرنے والا متوسط اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس کی آمدنی محدود ہوتی ہے جبکہ ایندھن کے اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔حکومت کو اس صورتحال میں صرف بیانات دینے کے بجائے ایک جامع اور شفاف حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ سب سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی سے متعلق درست معلومات عوام تک پہنچانا ضروری ہے تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو سکے۔ اگر واقعی ذخائر وافر ہیں تو اس کا واضح اور قابلِ اعتماد ثبوت پیش کیا جانا چاہیے تاکہ مارکیٹ میں خوف و ہراس نہ پھیلے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سپلائی چین کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ آئل ڈپوز، ریفائنریز اور پیٹرول پمپس تک ترسیل کے پورے نظام کو ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے شفاف بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
تیسرا اہم قدم یہ ہونا چاہیے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے بوجھ کو مرحلہ وار کم کیا جائے۔ اگرچہ حکومت کو مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن عوام پر حد سے زیادہ بوجھ ڈالنا بھی کسی صورت مناسب نہیں۔ ایک متوازن پالیسی کے ذریعے حکومت اپنی آمدنی بھی برقرار رکھ سکتی ہے اور عوام کو ریلیف بھی دے سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع پر سنجیدہ توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور متبادل ایندھن کے فروغ کے بغیر پاکستان ہر چند سال بعد اسی طرح کے پیٹرول بحرانوں کا سامنا کرتا رہے گا۔آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ پیٹرول کا مسئلہ صرف سپلائی یا قیمتوں کا نہیں بلکہ اعتماد کا بھی ہے۔ جب حکومت، اداروں اور مارکیٹ کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو تو معمولی خبر بھی بحران کا تاثر پیدا کر دیتی ہے۔ اگر حکومت شفافیت، مؤثر نگرانی اور متوازن معاشی پالیسی کو یقینی بنائے تو نہ صرف موجودہ خدشات ختم ہو سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی ایسے بحرانوں سے بچا جا سکتا ہے۔پاکستان کو ایک مضبوط اور پائیدار توانائی پالیسی کی ضرورت ہے جو وقتی فیصلوں کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی پر مبنی ہو۔ بصورت دیگر پیٹرول کی قلت اور قیمتوں کا بحران وقتاً فوقتاً سر اٹھاتا رہے گا اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی کو اٹھانا پڑے گا۔

تیسری عالمی جنگ کے سائے

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ خطے میں جاری جنگی ماحول نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں روسی حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والی وہ تشویش ناک خبر بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہے جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر موجودہ صورتحال قابو میں نہ آئی تو دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ خدشہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے ٹکراؤ کا میدان بن سکتا ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتیں پہلے ہی مختلف محاذوں پر آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں جبکہ دوسری جانب روس اور چین جیسے ممالک عالمی سیاست میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ان طاقتوں کی براہِ راست مداخلت بڑھ گئی تو یہ تنازعہ کسی بھی وقت عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں اکثر علاقائی تنازعات سے ہی شروع ہوئی ہیں۔اسی تناظر میں چین کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں قابلِ توجہ ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے اور توانائی کے مراکز یا دیگر غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنانا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ بھیجے گا تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور سفارتی راستوں کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ چین خطے میں ایک متوازن اور ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستوں کی حفاظت پر بھی زور دیا کیونکہ اگر جہاز رانی متاثر ہوئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔دوسری طرف امریکہ کو بھی اس صورتحال میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ عالمی طاقت ہونے کے ناطے اس کی ہر پالیسی اور ہر اقدام کے دور رس اثرات ہوتے ہیں۔ اگر امریکہ نے طاقت کے استعمال یا یکطرفہ فیصلوں کی راہ اختیار کی تو اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت دنیا کو جنگ نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے توانائی کے ذخائر کا مرکز ہے۔ اگر یہاں جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا تو تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔ پہلے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے اور اگر حالات مزید بگڑے تو توانائی کا عالمی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔اس نازک صورتحال میں عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنازعے کو بڑی طاقتوں کی جنگ بننے سے روکے۔ روس کے خدشات، چین کی سفارتی کوششیں اور خطے کے ممالک کا محتاط رویہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ امریکہ بھی ہوش کے ناخن لے اور طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دے۔دنیا پہلے ہی کئی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ بھڑک اٹھی تو اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ جنگ کے بجائے امن کو موقع دیا جائے اور عالمی طاقتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

کچے میں امن کی بحالی اورسیف سٹی ٹیکنالوجی کااستعمال

پنجاب کے دریائی کچے کے علاقے طویل عرصے تک جرائم پیشہ عناصر اور ڈاکوؤں کی پناہ گاہ سمجھے جاتے رہے۔ کبھی یہاں گولیوں کی تڑتڑاہٹ، خوف اور بے یقینی کی فضا چھائی رہتی تھی اور مقامی آبادی ایک طرح سے ریاستی رٹ سے محروم دکھائی دیتی تھی۔ تاہم حالیہ برسوں میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ اقدامات کے نتیجے میں اس صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ آج وہی علاقہ جہاں کبھی ڈاکو راج کا تاثر غالب تھا، وہاں امن و امان کی بحالی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور ریاستی رٹ مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
حکومت پنجاب کا یہ فیصلہ کہ کچے کے علاقے میں بھی لاہور کی طرز پر جدید نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، ایک مثبت اور دور رس اقدام ہے۔ اس منصوبے کے تحت پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے علاقے کی نگرانی کرے گی۔ تھرمل ڈرونز، ٹیذرڈ ڈرونز، تھرمل کیمرے اور جدید گاڑیوں کی ٹریکنگ جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اب روایتی طریقوں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم کے خاتمے کا عزم رکھتی ہے۔کچے کے علاقے کی جغرافیائی پیچیدگیاں ہمیشہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہیں۔ دریائی جزائر، گھنے جنگلات اور گنے کی بلند فصلیں جرائم پیشہ عناصر کے لیے قدرتی پناہ گاہ بن جاتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں کارروائیاں اکثر مشکل اور طویل ہو جاتی تھیں۔ تاہم جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور تھرمل نگرانی کے ذریعے اب دن رات مسلسل مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی، جس سے کسی بھی مشتبہ سرگرمی کو فوری طور پر پکڑا جا سکے گا۔
اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو انٹیگریٹڈ کنٹرول روم اور سولر پاورڈ سرویلنس سائٹس کا قیام ہے۔ کچے کے دور دراز علاقوں میں بجلی اور موبائل نیٹ ورک کی کمی ہمیشہ ایک مسئلہ رہی ہے، مگر سولر پاورڈ سسٹم اس کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ 67 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت سے بننے والا یہ منصوبہ صرف ایک ٹیکنالوجی پروجیکٹ نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے ایک مضبوط حکمت عملی کی علامت ہے۔تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اس کامیابی کو مستقل بنایا جائے۔ ماضی میں بھی مختلف اوقات میں آپریشنز کے ذریعے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، لیکن مستقل نگرانی اور ترقیاتی اقدامات کی کمی کے باعث جرائم دوبارہ سر اٹھا لیتے تھے۔ اس بار ضرورت اس بات کی ہے کہ آپریشن کے بعد ریاستی رٹ کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ کچے کے علاقوں کی معاشی اور سماجی ترقی پر بھی توجہ دے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی مقامی آبادی کو جرائم پیشہ گروہوں کے اثر سے دور رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ جب مقامی لوگ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو امن و امان کا قیام مزید مضبوط ہوگا۔یہ حقیقت بھی خوش آئند ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس منصوبے کی منظوری دے کر واضح پیغام دیا ہے کہ صوبے کے کسی بھی علاقے کو جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، مؤثر نگرانی اور سماجی ترقی کو یکجا کر دیا جائے تو وہ دن دور نہیں جب کچے کے علاقے مکمل طور پر امن کا گہوارہ بن جائیں گے۔ریاستی رٹ کی بحالی صرف ایک آپریشن کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اگر موجودہ اقدامات مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہے تو یقیناً وہ وقت آئے گا جب پنجاب کے کچے کے علاقے گولیوں کی تڑتڑاہٹ نہیں بلکہ امن اور ترقی کی گونج سے پہچانے جائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں