ملتان(سٹاف رپورٹر) نشاط سکولز سسٹم کی مالک میڈم نشاط کے پوتے اور عالمگیر خان فیروز کے بیٹے شاہ میر خان کے ہاتھوں خانیوال کے دو سگے بھائیوں کی موت کے حوالے سے مزید انکشافات ہوئے ہیں کہ ملتان کے چند امیر خاندانوں کے لڑکے رات گئے ملتا ن پبلک سکول روڈ پر ہفتے میں دو دن گاڑیوں کی ریس لگاتے ہیں اور ایک دوسرے کی گاڑی کو کٹ مارتے ہیں۔ ان میں سے چند نوجوان آئس اور شراب پی کر ریس کرتے ہیں اور مبینہ طور پر نشے کی حالت میں گاڑیاں دوڑاتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 8 نمبر اور 9 نمبر چونگی کے ایک مصروف کار ڈیلر کا بیٹا بھی اس گروپ میں شامل ہے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شاہ میر خان مبینہ طور پر نشے میں دھت تھا۔ اس لیے ریسکیو 1122 والوں نے بھی اس خبر کو میڈیا سے چھپائے رکھا کہ عالمگیر خان کے سہولت کار فور ی طورپر موقع پر پہنچ گئے تھے اور انہی سہولت کاروں نے شاہ میر خان بابر کا میڈیکل نہ ہونے دیا۔ بتایا گیا ہے کہ عالمگیر خان فیروز کے بڑے بیٹے شہیر عالم نے اپنے کلاس فیلو اور دوست کو بلیک میل کرکے اس کے ساتھ اپنے نوکروں سے بد فعلی کرائی اور ویڈیو بنائی اور بعد میں بلیک میل کرکے خود بھی اس کے ساتھ بدفعلی کرتا رہا جس کا مقدمہ بھی آج سے 9سال قبل درج ہوا پھر مذکورہ نوجوان جس کا والد یورالوجسٹ ڈاکٹر تھا نے مقدمے کی پیروی بھی کی مگر بتایا گیا کہ کروڑوں روپے میں پولیس اور مدعی کے ساتھ ڈیل ہوئی جس پر عالمگیر خان فیروز نے مذکورہ رقم ادا کی۔ نشاط خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق مذکورہ ڈاکٹر کے بیٹے اور عالمگیر خان کے بیٹےکے درمیان صلح پر مبینہ طورپر 15کروڑ روپے 2014میں خرچ ہوئے تھے اور اب بھی صورتحال یہ ہے کہ عالمگیر خان فیروز نے اپنے بیٹے پر عائد کردہ 302 کو ختم کرانے کے لیے نوٹوں کی بوریاں تیار کررکھی ہیں۔







