پیرا فورس کی کارروائیاں یا تاجروں کی تذلیل؟

پنجاب کے مختلف شہروں میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے نام پر جاری آپریشن اب ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔ انتظامی نظم و ضبط برقرار رکھنا یقیناً حکومت اور ضلعی اداروں کی ذمہ داری ہےمگر جب قانون کے نفاذ کے نام پر عام شہریوں اور تاجروں کو ہراساں کیا جانے لگے تو یہ عمل انصاف کے بجائے جبر کی علامت بن جاتا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق بہاولپور، ملتان، ڈیرہ غازی خان، لیہ اور دیگر شہروں میں پیرا فورس کی کارروائیوں نے تاجروں اور دکانداروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
بازار کسی بھی شہر کی معاشی شہ رگ ہوتے ہیں۔ یہاں روزانہ ہزاروں افراد روزگار کماتے اور لاکھوں شہری اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ مگر اگر یہی بازار خوف اور غیر یقینی کی فضا میں تبدیل ہو جائیں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ تاجر برادری کی شکایات ہیں کہ پیرا فورس کے اہلکار تجاوزات کے خاتمے کے نام پر نہ صرف سامان ضبط کر لیتے ہیں بلکہ اکثر اوقات اس سامان کا کوئی ریکارڈ یا رسید بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ یوں دکانداروں کی محنت سے خریدا گیا سامان نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے اور اس کی واپسی کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ابھی گرمیوں کا آغاز ہی ہوا ہے اور دکاندار شدید دھوپ میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی مقامات پر تاجروں کو گرمی سے بچنے کے لیے معمولی ترپال یا شیڈ لگانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ ایسے حالات میں کھلے آسمان تلے کھڑے ہو کر کاروبار کرنا نہ صرف مشکل بلکہ بعض اوقات صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر موسم کی شدت میں اضافہ ہوا تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔
رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض اہلکار بھاری جرمانوں کی دھمکیاں دے کر دکانداروں سے مبینہ طور پر نذرانے وصول کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض معاملات میں جرمانوں کی رقوم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف اختیارات کا ناجائز استعمال ہے بلکہ کھلی بدعنوانی بھی ہے جس پر فوری کارروائی ہونی چاہیے۔دیہی علاقوں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض اہلکار دیہی بازاروں کا رخ کرتے ہیں جہاں سادہ لوح دکانداروں کو ڈرا دھمکا کر جرمانوں اور ضبطی کے نام پر مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا ماحول پیدا ہو رہا ہے جہاں تاجر اپنے ہی کاروبار میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تجاوزات کے خاتمے کا مقصد شہری نظم و ضبط قائم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ تاجروں کو ذلیل و خوار کرنا۔ اگر کارروائیوں میں شفافیت، قانون اور انسانی ہمدردی کا عنصر شامل نہ ہو تو یہ اقدامات عوامی ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔ تاجروں کا پیمانہ صبر لبریز ہونا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور پیرا فورس کی کارروائیوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ اگر کہیں اختیارات کا غلط استعمال یا بدعنوانی ہو رہی ہے تو اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی ایک واضح پالیسی بنائی جائے جس میں تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ تاجروں کے جائز مسائل اور موسمی حالات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ریاست کی طاقت کا اصل مقصد عوام کو سہولت دینا اور انصاف فراہم کرنا ہے۔ اگر یہی طاقت خوف اور پریشانی کی علامت بن جائے تو پھر اصلاح کی ضرورت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ پنجاب کے بازاروں میں امن، اعتماد اور انصاف کی فضا بحال کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں