بہاولپور(نیوز رپورٹر ) بہاولپور ٹریفک پولیس کا ’کالا دھندہ‘ بے نقاب:ٹریفک واڈن مہر اصغرکے بعد وارڈن امیر بخش کا بھی لوڈ شاپ پر مبینہ ’ٹول پلازہ ،ایک چالان، کئی شکار : PSID کے ذریعے ڈیجیٹل ڈکیتی، وکٹوریہ ہسپتال کے مریضوں کی آہیں اور سسکیاں انتظامیہ تک نہ پہنچ سکیں۔تمام الزامات بےبنیاد ہیں ٹریفک وارڈن۔ تفصیلات کے مطابق بہاولپور ٹریفک پولیس کی وردی میں چھپی کالی بھیڑوں نے شہر کو لوٹ مار کی منڈی بنا دیا۔ وارڈن مہر اصغر کےبعد وارڈن امیر بخش نامی اہلکار نے لوڈ شاپ کے باہر قانون کا جنازہ نکالتے ہوئے اپنا من پسند ناکہ قائم کر لیا ہےجہاں غریب اور ان پڑھ عوام کو ’’ڈیجیٹل ڈکیتی‘‘کے ذریعے لوٹا جا رہا ہے۔شہری حقوق کے علمبردار محمد حنیف نے اس منظم کرپشن کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے بتایایہ ٹریفک وارڈن نہیں، جیب تراش بن چکے ہیں۔ وارڈن امیر بخش ایک ہی PSID (چالان کوڈ) کو بار بار استعمال کر کے درجنوں گاڑیوں کا شکار کر رہا ہے۔ جس گاڑی کا چالان پہلے ہی ہو چکا ہوتا ہے، اسی کا ڈیٹا استعمال کر کے دوسری گاڑیوں سے پیسے بٹورے جا رہے ہیں۔ ان پڑھ شہریوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کے ساتھ کتنا بڑا ہاتھ ہو چکا ہے۔ یہ ریاست کی جیب نہیں بلکہ ذاتی تجوریاں بھرنے کا مکروہ دھندہ ہے۔محمد ساجد، سماجی رہنما چوہدری اقبال وکٹوریہ ہسپتال کے باہر ہونے والے مظالم پر پھٹ پڑے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایاوکٹوریہ ہسپتال آنے والے معصوم مریضوں اور ایمرجنسی کیسز کے ساتھ وارڈن کا سلوک انسانیت کی تذلیل ہے۔ امیر بخش اور اس کے کارندے ایمبولینسوں اور مریضوں کی گاڑیوں کو روک کر نہ صرف بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں چالان کی دھمکی دے کر ہراساں کیا جاتا ہے۔ کیا ڈی پی او بہاولپور نے اس وارڈن کو غریب عوام کی چمڑی ادھیڑنے کا لائسنس دے رکھا ہے؟۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لوڈ شاپ کے باہر لگا یہ ناکہ صرف ٹریفک کنٹرول کے لیے نہیں بلکہ مخصوص ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے، جہاں قانون کی نہیں بلکہ امیر بخش کی مرضی چلتی ہے۔ مریضوں کی بددعائیں اور غریبوں کی آہیں اس ناکے پر روز کا معمول بن چکی ہیں۔اہلِ بہاولپور نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وارڈن امیر بخش کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے اور PSID ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کروا کر لوٹی گئی رقم برآمد کی جائے۔ اگر اس چالان مافیا کو لگام نہ دی گئی تو شہر کا ہر شہری سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرے گا۔







