“پھر ہیرا پھیری” ویمن یونیورسٹی کی غیر قانونی وی سی کی ملتان بورڈ کے ساتھ بھی ڈبل گیم

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی 3 تاریخ پیدائش رکھنے،میٹرک داخلہ فارم کے مطابق 1 سال پہلے ریٹائر ہونے کے باوجود مضبوط سیاسی تعلقات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ناجائز سرپرستی میں خواتین یونیورسٹی ملتان پر غیر قانونی وائس چانسلر کی کرسی پر قابض رہنے اور جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو الو بنا کر پرو وائس چانسلر کا غیر قانونی عہدہ حاصل کرنے والی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ناجائز وائس چانسلر کی دھوکہ دہی کے بارے میں بڑے بھیانک انکشافات سامنے آ گئے ہیں جس کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ملتان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان کو بھی دھوکہ دیتے ہوئے 2 درخواست فارم برائے درستگی تاریخ پیدائش جمع کروائے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے میٹرک داخلہ فارم پر تاریخ پیدائش 15 نومبر 1964 تحریر کی تھی۔ بورڈ کے عملے کی ملی بھگت سے انہوں نےمیٹرک کی سند پر 15 نومبر 1966 تحریر کروائی۔ پہلےدرخواست فارم برائے درستگی پر انہوں نے میٹرک کی سند پر تاریخ پیدائش 15 نومبر 1966 سے 9 جون 1968 تبدیلی کی درخواست دی اور اس درستگی فارم میں درج بینک چالان نمبر 438508 درج کیا۔ جس کو پرنسپل گورنمنٹ گرلز کمپری ہنسو سکول مسز شہناز زہرہ زیدی نے بھی بغیر ریکارڈ چیک کیے تصدیق کیا جس پر ملتان بورڈ کے عملے کی ملی بھگت سے بورڈ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کی مہر بھی ثبت ہے۔ دوسرا درخواست فارم کچھ عرصے بعد جمع کروایا گیا جس پر تاریخ پیدائش کی تبدیلی میٹرک رجسٹریشن فارم پر درج 15 نومبر 1964 سے 9 جون 1968 کروائی اور اس میں بھی وہی بینک فیس چالان نمبر 438508 استعمال کیا گیا۔ اور اس کو دوسری پرنسپل مسز زرین اختر سے تصدیق کروایا گیا جنہوں نے بھی بغیر ریکارڈ چیک کیے اس کو تصدیق کیا اور اسی طرح ملتان بورڈ کے عملے کی ملی بھگت سے بورڈ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نے اپنی مہر ثبت کی۔ اس قدر دھوکہ دہی اور اعلیٰ ترین ڈگری رکھنے والے شخص اور ملتان بورڈ جیسے ادارے اور بعد ازاں عہدے پر بٹھا کر سہولت کاری فراہم کرنے والے ہا ئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے نا اہل افسران پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں