ملتان(سٹاف رپورٹر) حکومت پنجاب کی طرف سے سیلاب زدگان کی امدادی رقوم میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے حوالے سے پٹواری اور محکمہ مال مافیا کے خلاف شائع ہونے والی خبرپر درجنوں متاثرین سیلاب نے روزنامہ قوم سے رابطہ کرکے جہاں معلومات فراہم کیں وہاں تصیحح بھی کی کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ ففٹی ففٹی کے فارمولے پر عمل کررہا ہے اور ضلع ملتان کے جن مواضعات میں اشتمال میں ہوا یا جو مواضعات کمپوٹرائزڈ نہیں ہوئے وہاں پٹواری دیگر علاقے کے لوگوں کو فرد ملکیت بنا کر دے رہے ہیں اور ان سے 50فیصد خود امدادی رقوم میں سے وصول کررہے ہیں۔شیر شاہ کے علاقوں کے سیلاب متاثرین کو لوٹنے والے پٹواری کا نام جاوید ناصر شاہ ہے جو سیلاب زدہ علاقوں کے علاوہ دیگر علاقوں کے لوگوں کو بھی پیسے لے کر فرد ملکیت دے کر رقوم دے رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں جلالپور پیروالا کے سیلاب متاثرین نے روزنامہ قوم کو بتایاکہ پٹواریوں نے ریٹائرڈ ملازمین اور سول افراد سے مل کر سروے کرائے اور پھر اس سروے کے بعد متعلقہ پٹواریوں نے ہی فارم تیار کئے اور تمام تر چھانٹیاں پٹواریوں ہی کے ذمے ہیں۔ جن کو نقد رقم دی جاتی ہے وہ 50ہزار سے کم ہے مگر اس سے زیادہ رقم کسان کارڈ کے ذریعے ملتی ہیں مگر اس میں مقامی زمیندار پٹواری حضرات کی ٹائوٹی کرکے ان کے لیے رقوم اکٹھی کرتے ہیں اور اس کے لیے کوئی ا کائونٹ نہیں کھولنا پڑتا بس کسان کارڈ اور کوڈ کے ذریعے رقوم آرہی ہیں جن میں سے کوئی بھی یکمشت پیسے نہیں نکلوا سکتا بلکہ اقساط میں نکالے جاسکتے ہیں ۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق پٹواری حضرات 50فیصد تو کم ازکم لے رہے ہیں اور حیران کن امر یہ ہے کہ متعلقہ تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر شکایات کے باوجود کارروائی سے گریزاں ہیں۔







