پٹرولیم مصنوعی بحران پر کریک ڈاؤن، قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری، ورک فرام ہوم پر غور

اسلام آباد(بیورورپورٹ)آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی بحران کے خدشات کے پیش نظر حکومت نے توانائی کی بچت کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار تعین کیا جائے گا جبکہ کوڈ19 کی طرز پر دفاتر و تعلیمی اداروں میں کام کے دنوں میں کمی اور ورک فراہم جیسی سہولتوں پر غور جاری ہے۔ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کی طلب کم کرنے کے لیے قیمتوں کے نئے طریقہ کار کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ہفتے ردوبدل کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں کووڈ 19 وبا کے دوران اپنائے گئے طریقہ کار کی طرز پر تعطیلات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔حکومت نے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے پر مشتمل حکمت عملی تیار کی ہے جس میں تین سے چار درجن تجاویز شامل ہیں۔پہلے مرحلے میں حکومت سرکاری شعبے میں اقدامات نافذ کرے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں نجی سکولوں، جامعات اور ہسپتالوں میں آن لائن اسائنمنٹس کا نظام متعارف کرایا جائے گا، اس کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل بھی کیا جائے گا۔خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور کھپت سے متعلق ہائی پاورڈ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آفسز، تعلیمی اداروں اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ورکنگ ڈیز میں کمی کا پلان تیار کیا گیا جبکہ تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم اور دفاتر کے لیے ورک فرام ہوم کا طریقہ کار بھی زیر غور ہے۔حکام کے مطابق ان اقدامات کے ذریعے ایندھن کے موجودہ ذخائر کا مؤثر استعمال اور طلب میں کمی ممکن بنائی جائے گی۔ پلان کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کا طریقہ کار بھی زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخیرہ اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب اجلاس کے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق وزارت پٹرولیم نے بریفنگ میں بتایا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جو پیٹرول پمپ مصنوعی قلت میں ملوث ہو اس کو فورا بند کیا جائے، اوگرا مصنوعی قلت میں ملوث پیٹرول پمپ کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کرے جب کہ وزیر پیٹرولیم صوبوں کا دورہ کریں، وزیرپیٹرولیم صوبائی حکومتوں کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور عوام کو بلاتعطل فراہمی سے متعلق لائحہ عمل تیار کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبوں کے ساتھ رئیل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو، ڈیش بورڈ کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں